امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہےکہ امریکی فوج نے ایران میں تقریباً 2،000 اہداف پر حملے کیے ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق امریکا نے ایران کی آبدوز سمیت 17 بحری جہازوں کو تباہ کیا، خلیج عرب، ہرمز اور خلیج عمان میں اب کوئی بھی ایرانی بحری جہاز موجود نہیں۔
امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے 500 بیلسٹک میزائل اور 2 ہزار سے زائد ڈرون داغے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب، اسرائیلی میڈیا
اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران میں سب کچھ تباہ کردیا گیا ہے ، ایران کی فضائیہ، بحریہ اور قیادت ختم کر دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا سے بات کرنا چاہتا ہے لیکن اب بہت دیر ہوچکی ہے۔ اہداف کے حصول تک ایران سے جنگ جاری رہے گی۔
امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے بھی کہا کہ امریکا ایران کے میزائل پیڈز کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے جوہری اوربیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔
مارکو روبیو نے مقاصد کے حصول تک کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایرانی حملے میں ہلاک 4 امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر
امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے پہلے چار امریکی فوجیوں کی شناخت کر لی ہے۔ یہ فوجی امریکی آرمی ریزرو کے 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ (ڈیس موئنز، آئیووا) سے تعلق رکھتے تھے۔
ان میں 35 برس کے کیپٹن کوڈی اے خورک تھے جن کا تعلق ونٹر ہیون فلوریڈا سے تعلق تھا۔ 42 برس کے سارجنٹ فرسٹ کلاس نوح ایل ٹیٹجینز کا تعلق بیلویو، نیبراسکا سے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی مذاکرات کی پیشکش مسترد؛ ایران کا امریکا کے ساتھ بات چیت سے صاف انکار
39 برس کے سارجنٹ فرسٹ کلاس نکول ایم امور وائٹ بیئر لیک، منی سوٹا کے رہائشی تھے۔ 20 برس کے سارجنٹ ڈیکلن جے کوڈی ویسٹ ڈیس موئنز، آئیووا سے تعلق رکھتے تھے۔
امریکی فوج کے مطابق کویت میں ایک فوجی تنصیب پر اتوار کو ایرانی حملے میں مزید دو فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ان کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی۔




