پاک افغان سرحد پر بلوچستان میں پاکستان کی ’’سخت جوابی کارروائی‘‘ متعدد مقامات پر وسیع فوجی آپریشن

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان آرمی نے 3 اور 4 مارچ کی درمیانی شب پاک افغان سرحد سے ملحقہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر جوابی فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان مبینہ ٹھکانوں اور پوسٹوں کے خلاف کی جا رہی ہے جو کالعدم عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے زیر استعمال تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی فورسز کی اورناچ میں بڑی کارروائی، بی ایل اے کے مزید14دہشتگرد ہلاک

ذرائع کے مطابق اس آپریشن کا مقصد سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کی سرگرمیوں کا موثر سدباب کرنا اور ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کو ختم کرنا ہے۔

وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 50 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کارروائی میں مختلف جدید اور بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں شامل ہیں براہ راست اور بالواسطہ فائرنگ کرنے والے ہتھیارشامل ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی میں اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل (ATGMs)،راکٹ لانچر اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے مارٹر،ہلکی اور بھاری توپخانہ مین بیٹل ٹینکس (MBTs)استعمال کئے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لنڈی کوتل: پاکستان آرمی آرٹلری کی بڑی کامیابی، کمانڈر ٹی ٹی اے جلال آباد قہرمان ہلاک

۔جبکہ مربوط کارروائی کیلئے سوارم ڈرونز جو زمینی دستوں کے ساتھ مل کر مخصوص اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ ایک ’’حساب شدہ اور سخت نوعیت کی کارروائی‘‘ ہے جس کا مقصد دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو فیصلہ کن نقصان پہنچانا ہے۔

مختلف سیکٹرز میں کارروائیاں

اطلاعات کے مطابق آپریشن بلوچستان کے مختلف حساس سیکٹرز میں جاری ہےجن میں قلعہ سیف اللہمیں پشین، لوئے بند اور بادینی سیکٹر،ژوب میں سمبازہ اور گھڈوانہ ،نوشکی میں جانی اور غزنالی سیکٹر،چلتن رینجزمیں گلستان، دوبندی اور ششکا سیکٹرشامل ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مقامات کو مبینہ طور پر سرحد پار سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

خودمختاری کے دفاع کا عزم

حکام کے مطابق یہ کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک خطرات کو مکمل طور پر غیر مؤثر نہ بنا دیا جائے اور سرحدی علاقوں میں مؤثر دفاعی توازن بحال نہ ہو جائے۔

پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔

Scroll to Top