بہادر افواج نےبھارت کو منہ توڑ جواب دیکر معرکۂ حق تاریخی تزویراتی فتح میں بدل دیا،صدر مملکت

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی ملکی یا غیر ملکی کو اپنے امن کو غیر مستحکم کرنے کیلئے کسی پڑوسی ملک کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ منفرد اعزاز ہے کہ بطور دوبار منتخب صدرمملکت پارلیمنٹ سے یہ میرا 9واں خطاب ہے، پارلیمنٹ سے ایسا ہر خطاب جمہوری نظام کے تسلسل اور ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں، اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے، جمہوریہ کی طاقت آئین، عوامی ثابت قدمی، پارلیمنٹ اور حکومت کی ذمہ داری، مسلح افواج کے حوصلے میں مضمر ہے، نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ہمیں اسی عزم کو آگے بڑھانا ہے، ملکی خودمختاری کا تحفظ، آئین کی حکمرانی اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر سمیت ایران میں پھنسے 183 طلباء وطالبات کو بحفاظت کوئٹہ پہنچادیا

انہوں نے کہا کہ اپنے شہریوں کی خوشحالی اور امن کیلئے ترقی اور استحکام کا عمل آگے بڑھانا ہے، آج ہم اُن بنیادوں پر کھڑے ہیں جو ہماری قومی جدوجہد کے معماروں نے رکھی تھیں، قائدِاعظم نے ایسی جمہوری ریاست کا تصور پیش کیا جو آئین اور قانون کی حکمرانی پر قائم ہو، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا، بے، نظیر بھٹو شہید نے قربانی اور مثالی قیادت سے جمہوری عمل کو مضبوط کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی پر میرا ایمان صرف الفاظ تک محدود نہیں، گزشتہ دور میں یکطرفہ طور پر صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کئے، تاریخی 18ویں ترمیم کے ذریعے صدر مملکت کا منصب وفاق کی وحدت کی علامت ہے۔

گزشتہ دس ماہ میں ہماری قوم نے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا، دونوں سرحدوں پر بلااشتعال حملوں پر ہماری افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کا ثبوت دیا، ہماری بہادر افواج نے معرکۂ حق میں بھارتی حملے کو تاریخی تذویراتی فتح میں بدل دیا، 26 فروری کی رات طالبان رجیم نے مغربی سرحد پر حملے کیے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر:ہیلتھ ملازمین کا احتجاج 17ویں روز میں داخل، سڑکوں پر نکلنے کا اعلان

سیاسی قیادت متحد اور قوم ثابت قدم رہی، بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے عسکری اور سفارتی محاذوں پر کامیاب رہے، عالمی برادری نے ہماری اصولی اور فیصلہ کن کارروائی کو تسلیم کیا، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، بھارتی قبضے سے کشمیر کی آزادی تک جنوبی ایشیا محفوظ نہیں ہوسکتا، پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 ہمیں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کا حق دیتا ہے، سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے، افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کیلئے سفارت کاری کی ہر ممکن کوشش کی۔

انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران چھیڑی جانے والی جنگ کی شدید مذمت کی، خطے کو مزید بحران سے بچانے کیلئے امن، تحمل اور مذاکراتی حل پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکا میں اسٹریٹجک تعاون اور شراکت داری کی نئی راہیں کھلی ہیں، پاکستان اور چین کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ : حکومت کو بلدیاتی ترقیاتی فنڈز ممبران اسمبلی کے ذریعے خرچ کرنے سے روک دیا

سی پیک 2 پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں انقلاب برپا کرے گا، شی جن پنگ کا شکر گزار ہوں، مسئلہ فلسطین پر پاکستان اصولی موقف رکھتا ہے، 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت، سندھ طاس معاہدے کو التوا میں ڈالنے کے غیر قانونی بھارتی اقدامات آبی دہشتگردی ہیں، منتخب صدر کی حیثیت سے وفاق اور پارلیمنٹ کے اتحاد کی حفاظت کا پابند ہوں، بلوچستان کی محرومیوں پر خصوصی توجہ ناگزیر ہے۔

معاشی استحکام اور قومی سلامتی لازم و ملزوم ہیں، ادارہ جاتی اصلاحات انتہائی ضروری ہیں، ٹیکس نظام اور اخراجات میں شفافیت اعتماد کی بنیاد ہے، ٹیکنالوجی اور جدت عالمی معیشت کو نئی شکل دے رہی ہے۔

پاکستان کلین انرجی کے شعبے میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، سماجی تحفظ کے فریم ورک بی آئی ایس پی کے ذریعے پسماندہ طبقوں کو بااختیار بنانا ہے، سلامتی، معیشت اور آئینی طرز حکمرانی ایک دوسرے سے منسلک ہیں، آئیں آزمائش کے وقت میں اتحاد برقرار رکھیں، ہمیں یقینی بنانا ہے کہ معاشی فوائد عام آدمی کو پہنچیں۔

Scroll to Top