برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ امریکہ برطانیہ کے فوجی اڈوں کو دفاعی کارروائی کیلئے استعمال کرسکتا ہے جبکہ برطانیہ، فرانسی اور جرمنی نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ خلیج فارس میں ایران کیخلاف دفاعی کارروائی کا پورا حق رکھتے ہیں۔
ویڈیو بیان میں برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ امریکہ نے دفاعی مقاصد کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کی درخواست کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس،ایران کو جواب دینے کا انتباہ
کیئر سٹارمر نے کہا کہ ہم نے یہ درخواست قبول کی ہے تاکہ ایران کو خطے میں میزائل فائر کرنے سے روکا جا سکے جو بے گناہ شہریوں کو مار سکتے ہیںبرطانوی شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور اُن ممالک کو نشانہ بنا سکتے ہیں جو اس تنازع میں شامل نہیں۔
کیئر سٹارمر نے واضح کیا کہ برطانیہ ان حملوں میں شریک نہیں ہے اور صرف دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں، ہم نے عراق کی غلطیوں کو یاد رکھا ہے اور ان سے سبق سیکھا ہے۔ ہم ایران پر ابتدائی حملوں میں شامل نہیں تھے اور اب بھی جارحانہ کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران زمین کو تباہ کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل کر رہا ہے، اس لیے برطانیہ اپنے اتحادیوں اور خطے میں موجود اپنے لوگوں کے اجتماعی دفاع کی حمایت کر رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ فوری خطرے کو ختم کرنے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کا بہترین طریقہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر امریکا کے مزید حملے، پاسداران انقلاب ہیڈکوارٹر تباہ کرنے کا دعویٰ
برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’ہمارے خلیجی اتحادیوں نے ہم سے مزید دفاعی اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔
ہمارے جیٹ طیارے پہلے ہی مشترکہ دفاعی آپریشنز کا حصہ ہیں اور انہوں نے ایرانی حملوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطرے کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ میزائلوں کو اُن کے لانچرز پر ہی تباہ کیا جائے۔
ادھرفرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ خلیج فارس میں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف دفاعی کارروائی بھی کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔
اپنے مشترکہ بیان میں تینوں ممالک نے کہا کہ خطے کے ممالک کے خلاف ایران کے ’اندھا دھند اور غیر متناسب‘ میزائل حملوں سے انہیں دھچکا لگا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا، سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان
ایران کے میزائل حملوں سے وہ ممالک بھی متاثر ہوئے جو ابتدائی امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں شامل نہیں تھے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم اپنے اور خطے میں اپنے اتحادیوں کے مفادات کے دفاع کیلئے کام کریں گے اور ایران کی میزائل اور ڈرون لانچنگ کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے ضروری اور متناسب دفاعی اقدامات کیے جائیں گے۔




