ایران نےمشرقِ وسطیٰ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر چھٹا میزائل حملہ کر دیا

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں موجود 27 امریکی فوجی اڈوں پر نئے اور انتہائی وسیع پیمانے پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری کردہ بیان میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کی جانے والی بمباری کے جواب میں جوابی کارروائیوں کا چھٹا مرحلہ (Sixth Phase) شروع کر دیا گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں مرحلہ وار جاری رہیں گی اور آئندہ مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

ایرانی حکام کے مطابق، اس تازہ کارروائی میں اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے درجنوں میزائل اور ڈرونز داغے گئے۔ ان حملوں کا بنیادی مقصد دشمن کی اہم عسکری تنصیبات اور کمانڈ مراکز کو مفلوج کرنا تھا۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 27 امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے انتہائی حساس عسکری مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں تل نوف ایئربیس، تل ابیب میں قائم اسرائیلی فوج کا مرکزی کمانڈ ہیڈ کوارٹر ‘ہاکریا’ اور اسی شہر میں موجود ایک بڑا دفاعی صنعتی کمپلیکس شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مشہد سے تہران تک:سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا 36 سالہ قیادت کا سفر

عینی شاہدین نے تصدیق کی ہے کہ تل ابیب میں متعدد زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور کئی علاقوں میں دھوئیں کے گہرے بادل آسمان کی طرف اٹھتے دیکھے گئے۔ اگرچہ اسرائیلی حکام نے فی الحال کسی بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی، تاہم ہنگامی طور پر تمام شہریوں کو زیر زمین پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب خلیجی ممالک سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی 11 زوردار دھماکے سنے گئے ہیں۔ ان دھماکوں کے فوراً بعد قطری سیکیورٹی اداروں نے مخصوص مقامات کو گھیرے میں لے لیا ہے اور فضائی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے بھی خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش تھے۔

مزید پڑھیں: ایران کا نظامِ رہبری کیا ہے؟ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعدنیارہبرِ اعلیٰ کیسے منتخب ہوگا؟

ایران کی پاسداران انقلاب نے دشمن کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر حملے نہ روکے گئے تو آنے والی کارروائیاں پہلے سے زیادہ سخت، پیچیدہ اور مختلف نوعیت کی ہوں گی۔ ایرانی فورسز کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ اگرچہ تاحال امریکہ یا اسرائیل نے ان حملوں کی تفصیلی تصدیق نہیں کی، مگر دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جوابی کارروائیوں کے اس نئے اور چھٹے مرحلے نے پورے مشرق وسطیٰ کو ایک ایسی ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی مشکل نظر آتی ہے۔

Scroll to Top