مشہد سے تہران تک:سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا 36 سالہ قیادت کا سفر

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی زندگی جدوجہد، طاقت، نظریاتی وابستگی اور علاقائی حکمت عملی کا ایک ایسا امتزاج تھی جس نے ایران کی سیاست کو ایک مخصوص سمت عطا کی اور ملک کو عالمی منظرنامے میں ایک نمایاں کردار دلایا۔

ابتدائی زندگی اور علمی و فکری تربیت:

آیت اللہ علی خامنہ ای 1939 میں ایران کے مقدس شہر مشہد میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد دینی مدارس میں فقہ اور اسلامیات کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں نجف اور قم کے علمی مراکز سے وابستہ رہے۔ وہ انقلابِ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے قریبی شاگردوں میں شمار ہوتے تھے اور ان کی فکری تربیت نے ہی ان کی سیاسی سمت کا تعین کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا نظامِ رہبری کیا ہے؟ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعدنیارہبرِ اعلیٰ کیسے منتخب ہوگا؟

شاہ کے دور میں قید و بند کی صعوبتیں:

شاہِ ایران کے دور میں آیت اللہ خامنہ ای اپنی سیاسی سرگرمیوں کے باعث متعدد بار گرفتار ہوئے۔ انہوں نے مذہبی اجتماعات اور تقاریر کے ذریعے شاہی حکومت پر کڑی تنقید کی، جس کے نتیجے میں انہیں جیل اور نظر بندی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ نئی اسلامی حکومت کے قیام میں نمایاں کردار ادا کرنے لگے اور انقلابی قیادت کے ایک اہم ستون بن کر ابھرے۔

قاتلانہ حملہ اور صدارت کا دور:

1981 میں ایک قاتلانہ حملے کے دوران وہ شدید زخمی ہوئے، جس کے باعث ان کا دایاں بازو مستقل طور پر متاثر ہوا۔ اسی سال وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے اور ایران عراق جنگ کے کٹھن دور میں ملک کی قیادت کی، جہاں انہوں نے عسکری اور دفاعی حکمت عملی کو مضبوط بنانے پر بھرپور توجہ دی۔

سپریم لیڈر کے طور پر انتخاب اور دفاعی پالیسی:

1989 میں آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد مجلسِ خبرگان نے انہیں ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا، جس کے بعد وہ ملک کے سب سے بااختیار منصب پر فائز ہوئے اور چار دہائیوں تک ایران کی سیاسی و عسکری سمت کا تعین کرتے رہے۔ انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کو مزید مضبوط کیا اور ‘مزاحمتی معیشت’ کی پالیسی اپنائی تاکہ مغربی پابندیوں کے باوجود خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے۔

خارجہ پالیسی اور ‘محورِ مزاحمت’:

آیت اللہ خامنہ ای نے خطے میں ایران کے اتحادیوں کے نیٹ ورک کو مضبوط کیا جسے ‘محورِ مزاحمت’ کہا جاتا ہے، جس میں حزب اللہ، حماس، حوثی اور عراقی مسلح گروہ شامل ہیں۔ اگرچہ انہوں نے 2015 میں جوہری معاہدے کی منظوری دی، تاہم امریکہ کی علیحدگی کے بعد تعلقات دوبارہ کشیدہ ہو گئے۔

مزید پڑھیں: کمانڈر ان چیف کی طاقت یا مقننہ پر غلبہ؟ ایران اور وینزویلا سے لے کر مقامی محاذ تک، ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں کی کہانی

اندرونی چیلنجز اور چار دہائیوں کی قیادت:

ان کے دور میں 2009 کی گرین موومنٹ، 2019 کے معاشی مظاہرے اور 2022 کے احتجاج جیسے بڑے چیلنجز سامنے آئے۔ حامی انہیں استقامت اور مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین ان کی حکمرانی کو سخت گیر پالیسیوں سے تعبیر کرتے ہیں۔

Scroll to Top