نیویارک میں مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں رکن ممالک نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ اجلاس کے دوران روس، پاکستان، چین اور ایران نے ان حملوں کی مذمت کی جبکہ امریکہ اور فرانس نے اپنا الگ موقف پیش کیا۔
سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اور عالمی ردِعمل:
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے 20 شہروں پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت قابلِ مذمت ہے اور اس سے عالمی امن کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان حملوں میں ایران کی سول نیو کلیئر تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری جانب ایرانی حملوں سے اسرائیل میں 89 افراد زخمی اور متحدہ عرب امارات میں ایک شہری جاں بحق ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نےمشرقِ وسطیٰ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر چھٹا میزائل حملہ کر دیا
روس اور پاکستان کی شدید مذمت:
روسی مندوب نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ جارحیت کر کے ایران کی کمر میں چھرا گھونپا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان حملوں میں 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ روس کا کہنا تھا کہ آئی اے ای اے نے کبھی نہیں کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، امریکہ محض دنیا کو گمراہ کر رہا ہے۔
پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب سفارتی کوششیں جاری تھیں۔ انہوں نے ایران میں طلبہ سمیت شہریوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کیا، تاہم سعودی عرب، یو اے ای، بحرین اور قطر پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کی۔
ایران اور امریکہ کے متضاد دعوے:
ایرانی مندوب سعید ایروانی نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل زبردستی ایرانی حکومت بدلنا چاہتے ہیں، ایران نے جو کچھ بھی کیا وہ اپنے دفاع میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی کے دباؤ میں مذاکرات نہیں کرے گا اور انہوں نے سعودی عرب، پاکستان، روس اور چین کی جانب سے مذمت کو سراہا۔
دوسری جانب امریکی مندوب نے ان حملوں کو “کامیاب آپریشن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے مذاکرات کے باوجود یورینیم کی افزودگی نہیں روکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا ہے تاکہ وہ دنیا کے لیے خطرہ نہ بنے۔ فرانس نے بھی ایران سے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات کا مطالبہ کیا اور اسے خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ چینی مندوب نے تمام فریقین سے شہریوں پر حملے روکنے اور فوری مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی۔



