ایران کا نظامِ رہبری کیا ہے؟ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعدنیارہبرِ اعلیٰ کیسے منتخب ہوگا؟

تہران پر حالیہ امریکی و اسرائیلی حملے کے نتیجے میں شہیدہونے والے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای ملک کی سب سے طاقتور اور بااثر شخصیت تھے۔

ایران کے آئین میں رہبرِ اعلیٰ کا یہ عہدہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد امام خمینی کی زیرِ قیادت تخلیق کیا گیا تھا، جو 3 دسمبر 1979 کو ملک کے پہلے رہبرِ اعلیٰ مقرر ہوئے تھے۔ امام خمینی ساڑھے نو برس تک اس عہدے پر فائز رہے، جس کے بعد 1989 میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو ملک کا دوسرا رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ وہ 28 فروری 2026 کو اپنی شہادت تک ساڑھے 36 برس نہایت استقامت کے ساتھ یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔

ایران میں رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا نظام جسے ‘مجلسِ رہبری’ نامی 88 جید علما کا ادارہ چلاتا ہے۔ ہر آٹھ سال بعد ایران کے لاکھوں شہری اس ادارے کے اراکین کو منتخب کرتے ہیں، جبکہ آخری بار یہ انتخاب سنہ 2016 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ مجلسِ رہبری کے کسی بھی امیدوار کے لیے ‘شوریٰ نگہبان’ نامی کمیٹی کی منظوری لازمی ہوتی ہے، جس کے اراکین کا انتخاب بالواسطہ یا بلاواسطہ رہبرِ اعلیٰ کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے علم ہے خامنہ ای کے بعد ایران میں کس کا حکم چل رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

ایران اس وقت دنیا میں اہل تشیع آبادی کی اکثریت والا طاقتور ترین ملک ہے اور آئین کی رو سے سپریم لیڈر کا ‘آیت اللہ’ ہونا ضروری ہے، جو مذہبی و سیاسی رہنمائی کا مرکز ہوتا ہے۔ ایک اہم تاریخی پہلو یہ بھی ہے کہ جب سید علی خامنہ ای کا انتخاب ہوا تو اس وقت وہ آیت اللہ کے درجے پر نہیں تھے، جس کے لیے قانون میں خصوصی ترمیم کی گئی تھی تاکہ وہ یہ منصب سنبھال سکیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ایران کے دفاع اور اسلامی انقلاب کے تحفظ کے لیے وقف کر دی تھی۔

مزید پڑھیں: سپریم لیڈر کی شہادت ایران بھر میں 7روزہ عام تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان

Scroll to Top