مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر خطے میں ایسی خفیہ سفارتی صف بندیوں کے انکشافات ہو رہے ہیں جن کا مقصد خطے کو شدید عدم استحکام کی طرف دھکیلنا ہے۔ ذرائع کی جانب سے یہ سنگین دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت، اسرائیل اور افغان عبوری قیادت کے درمیان ایک ایسی غیر اعلانیہ اور خطرناک منصوبہ بندی ہوئی ہے جس کا بنیادی مقصد خطے میں افراتفری پھیلانا اور مسلم ممالک کو آپس میں لڑانا ہے۔
خفیہ مشاورت اور مثلث کا قیام:
واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، افغانستان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان مبینہ طور پر تل ابیب میں ایک خفیہ بیٹھک ہوئی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس مشاورت کا اصل ایجنڈا پاکستان کو افغانستان اور بھارت کے ذریعے سرحدی جھڑپوں میں مصروف رکھنا ہے، تاکہ اسی دوران اسرائیل کو ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کے لیے آزادانہ موقع مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل، ایران کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر پر میزائل حملے
پاکستان اور ایران کے خلاف تزویراتی کھیل:
ماہرین کے مطابق اگر یہ حکمت عملی زیرِ غور آئی ہے تو اس کے اثرات نہایت ہولناک ہو سکتے ہیں۔ پاکستان جغرافیائی طور پر ایران اور افغانستان دونوں کے ساتھ سرحد رکھتا ہے، لہٰذا کسی بھی قسم کی کشیدگی کا براہِ راست اثر پاکستان پر پڑے گا۔ ماضی میں بھی بھارت اور اسرائیل کے دفاعی تعاون پر بحث ہوتی رہی ہے، تاہم حالیہ سرحدی کشیدگی، خصوصاً 26 اور 27 فروری کو پاکستانی علاقوں میں ہونے والے حملوں نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ان جھڑپوں میں بڑی تعداد میں شدت پسند مارے گئے، جسے اب ایک وسیع تر علاقائی سازش کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کا دوٹوک موقف اور علاقائی امن:
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سرحدی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دفاعی و سفارتی دونوں سطحوں پر اقدامات جاری رہیں گے۔ ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں توازن اور امن کا خواہاں ہے۔ اب عالمی سطح پر یہ سوال شدت اختیار کر چکا ہے کہ کیا واقعی بھارت، اسرائیل اور افغانستان مل کر پاکستان اور ایران کے خلاف کوئی بڑا کھیل کھیل رہے ہیں؟ ان سوالات کا حتمی جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔




