مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود بند ہونے سے عالمی فضائی آپریشنز درہم برہم

بغداد (28 فروری 2026): مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر مشترکہ حملہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ملنے والی مسلسل دھمکیوں اور سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر یہ جوابی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ اس حملے کے جواب میں ایران نے بھی تل ابیب اور خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث پورے خطے کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں۔

فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی معطلی:

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں تمام بین الاقوامی اور داخلی پروازیں معطل ہو گئی ہیں۔ عراق اور اسرائیل نے بھی اپنی تمام شہری پروازیں منسوخ کر کے فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کویت نے ایران کے لیے اپنی تمام پروازیں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی ہیں، جبکہ روس نے بھی ایران اور اسرائیل کے لیے فضائی آپریشنز روک دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل، ایران کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر پر میزائل حملے

بین الاقوامی ایئرلائنز کا ردعمل:
عالمی فضائی کمپنیوں نے بھی ہنگامی بنیادوں پر اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے:

وِز ایئر (Wizz Air): اسرائیل، دبئی، ابوظہبی اور عمان کے لیے تمام پروازیں 7 مارچ تک معطل کر دی ہیں۔

لوفتھانسا (Lufthansa): دبئی، تل ابیب، بیروت اور مسقط کے لیے ہفتہ اور اتوار کی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

کے ایل ایم (KLM): ایمسٹرڈیم سے تل ابیب کے لیے پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

عمان ایئر (Oman Air): بغداد کے لیے اپنی تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی حدود کی اس اچانک بندش سے عالمی سطح پر مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top