خیبر پختونخوا میں اینٹی ڈرون سسٹمز فعال، سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی

پاک افغان سرحد پر حالیہ فضائی کارروائیوں اور بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان اور سکیورٹی اداروں نے خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں دفاعی حصار مزید مضبوط کر دیا ہے۔

تازہ ترین دفاعی اقدامات کے تحت سرحدی مقامات پر جدید اینٹی ڈرون سسٹمز فعال کر دیے گئے ہیں تاکہ سرحد پار سے کسی بھی ممکنہ فضائی مداخلت یا جاسوس ڈرونز کے ذریعے کی جانے والی شرپسندی کا مؤثر طریقے سے سدِباب کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق ، نوشکی سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹ تباہ ، اوماری کیمپ کو بھاری نقصان

سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ سسٹمز کسی بھی مشکوک ڈرون کی نقل و حرکت کو بروقت شناخت کرنے، اسے جام (Jam) کرنے یا مار گرانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ اقدام خاص طور پر حساس مقامات اور سکیورٹی فورسز کی چوکیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، کیونکہ حالیہ دنوں میں سرحد پار سے تکنیکی ذرائع کے استعمال کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے۔

صوبے بھر میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خاص طور پر ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) میں سکیورٹی فورسز کے گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

پاک فوج اور فرنٹیئر کور (FC) کے جوانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی یا سرحد پار سے ہونے والی اشتعال انگیزی پر فوری اور فیصلہ کن جوابی کارروائی کریں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹی پی یا پاکستان،کسی ایک کا چنائو کرلیں ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا افغانستان کو دیا گیا دو ٹوک پیغام سوشل میڈیا پر پھر وائرل

حکام کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی اقدامات ملک کی فضائی حدود کی حرمت برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔

عوام کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی مرکز کو دیں۔

Scroll to Top