چکسواری پولیس مقابلہ، ایس ایس پی میرپور کے ملزمان کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات

میرپور: چکسواری پولیس مقابلہ میں گرفتار اور فرا ہونے والے ملزمان کے حوالے سے ایس ایس پی میرپورخرم اقبال نے سنسنی خیز انکشافات کر دیئے ہیں۔

ایس ایس پی میرپور خرم اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ5روز قبل قاضی مظہر نامی لڑکے نے میرے دفتر میں درخواست دی ، درخواست میں جو مواد تھا وہ بڑا حساس نوعیت کا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: میرپور: اسسٹنٹ کمشنر کی خود ساختہ مہنگائی کیخلاف بڑی کارروائی ، کئی تاجر گرفتار، نقد جرمانےعائد

قاضی مظہر نے درخواست میں بتایا تھاکہ2020میں سے شہروز نامی شخص اسے پیراشاہ غازی سے لفٹ مانگتا ہے اور پھر جہلم کی طرف لے جاتا ہے جہاں اسےوہ چائے آفر کرتا ہے اورگھر لے جاتا ہے، وہاں مزید لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ قاضی مظہر کو یہ لوگ چائے پلانے کے بعد بدفعلی کانشانہ بناتے ہیں اور ویڈیوز بنا لیتے ہیں،قاضی مظہر کاروباری نوجوان تھا اور ایک مارٹ بھی بنا رکھا تھا۔

ملزمان قاضی مظہر کو 6 سال تک بلیک میل کرکے پیسے ہتھیاتے رہے،درخواست آنے کے بعد فوری میں نے تھانہ پولیس اسلام گڑھ اور تھانہ پولیس اسلام گڑھ کو ہدایات جاری کرکے مقدمہ درج کرایا اور ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد قاضی مظہر خود کوگولی مار کر خودکشی کر لیتا ہے جس پر ہم مقدمہ میں قتل کی دفعات بھی شامل کرتے ہیں، بعد میں قاضی مظہر کے بھائی نے بھی مقدمہ کیلئے درخواست دی ۔

یہ بھی پڑھیں: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا میرپور جیل کا دورہ، 4ملزمان کو رہا کروا دیا

پولیس نے تفتیش شروع کی تو معلوم ہوا کےملزم قاسم عرف کاشوچکسواری صابرآباد میں موجود ہے جس پر پولیس نے چھاپہ مارا تو وہاں 5اشتہاری بھی موجود تھے،کاشو ہی قاضی مظہر کو بلیک کرکے پیسے منگواتا رہا۔

پولیس نے جب ریڈکیا تو اشتہاریوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کردی جس پر ہمارے دو اہلکار مبارک اور شاہد نوید زخمی ہوئے، پولیس نے ایک اشتہاری ملزمان قاسم عرف کاشو ، دائوبٹ ساکن مریدکے اور زاہد کو گرفتار کیا۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ 3ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے ہیں جن کی تلاش جاری ہے ، انشااللہ ہم انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گے، ہم شہری کا تحفظ کرینگے۔