امریکہ

پرامن جوہری استعمال کا حق نہیں چھوڑیں گے،ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا کو پیغام

تہران/واشنگٹن:ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ہمیں دھمکا کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا، بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن پُرامن جوہری استعمال کا حق نہیں چھوڑیں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ جب اسرائیل نے حملہ کیا تھا ہم نے تب بھی ہتھیار نہیں ڈالے تھے، یہ لوگ ناکام تجربہ دُہرانا چاہتے ہیں تو اب بھی بہتر نتیجہ نہیں ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کیلئے بہت برا دن ہوگا، ٹرمپ کی پھر دھمکی، سرینڈر کا مطلب نہیں جانتے، تہران

عباس عراقچی نے کہا کہ ہم اب پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں، ہمیں دھمکا کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہاکہ اس میں کسی کی فتح نہیں ہوگی، جنگ ہوئی تو یہ تباہ کُن ہوگی، امریکی اڈے پورے خطے میں موجود ہیں، اس تنازع میں پورا خطہ شامل اور صورتحال بہت خطرناک ہوجائے گی۔

عباس عراقچی نے زور دیا کہ تنازع کا حل بات چیت اور سفارت کاری میں ہی ہے، بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن پُرامن جوہری استعمال کا حق نہیں چھوڑیں گے۔

ایران دھمکیوں کو سنجیدہ لے، کئی آپشن موجود ہیں، امریکی نائب صدر

ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکا کی فوجی کارروائی سے متعلق دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ واضح کرچکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جوہری تنازع کا حل سفارتکاری سے چاہتے ہیں اور امید ہے کہ ایرانی حکام آئندہ مذاکرات میں اس مؤقف کو سنجیدگی سے لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس مقصد کو سفارتی طریقے سے حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاہم امریکا کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کچھ نہیں بدلا، بھارت ٹیرف ادا کرتا رہیگا، ڈونلڈ ٹرمپ،نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کا تیسرا دور آج جنیوا میں ہوگا۔

جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی کہ ایران مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ کی سفارتی حل کی ترجیح کو سنجیدگی سے لے گا۔

Scroll to Top