بھارت خطے میں پاکستان مخالف پالیسی کو نئے انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔ افغانستان میں اس کی سفارتی واپسی اور مسلسل روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نئی دہلی زمینی حقائق سے فائدہ اٹھا کر افغانستان کے طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ذریعے دہشتگردی پھیلا کر پاکستان کی داخلی سلامتی کو چیلنج کرنے کے درپے ہے۔
جس طالبان حکومت کو کل تک بھارت’’پاکستانی پراکسی‘‘قرار دے کر مسترد کرتا تھا، آج اسی کابل کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات’’تکنیکی مشن‘‘ سے بڑھ کر مکمل سفارتی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقوامِ متحدہ رپورٹ: طالبان حکومت کے دعوے مسترد، افغانستان کو علاقائی خطرہ قرار دیا گیا
بھارتی وزیر اعظم کے اسرائیل کے دورے کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی و انٹیلی جنس تعاون محض دوطرفہ نہیں رہا بلکہ اسے افغانستان جیسی پراکسیز کی مدد سے پاکستان کے خلاف leverage کے طور پر استعمال کیا جائیگا۔پاکستان کے بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ اور افغان طالبان کا بطور کٹھ پتلی استعمال اس سلسلے میں پاکستان کے موقف کی توثیق کرتا ہے۔
بھارت ماضی میں بھی افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر عالمی سطح پر سوالات کی زد میں رہا ہے؛ کلبھوشن یادیو کیس جیسے شواہد پاکستان کے موقف کو تقویت دیتے ہیں کہ تخریبی نیٹ ورکس کو بھارتی سرپرستی حاصل رہی ہے۔
طالبان حکومت سے بھارت کے بڑھتے ہوئے روابط اس دعوے کی نفی کرتے ہیں کہ نئی دہلی محض ’’انسانی امداد‘‘ تک محدود ہے۔ خطے کے سکیورٹی تجزیہ کار اسے پاکستان مخالف قوتوں کی نئی صف بندی قرار دے رہے ہیں۔
معرکہ حق کے دوران اسرائیل نے کھلم کُھلا پاکستان کے خلاف بھارت کی مدد کی۔ اس معرکے میں بھارت کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔ نتیجتاً مودی سرکار نے اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے کیلئے سندور2کا اعلان کیا۔
سندور2بھارت کا وہ گھناؤنا کھیل ہے جس میں بھارت اسرائیل کی مدد سے افغان طالبان اور انکے زیر سایہ پنپنے والی دہشتگرد تنظیموں کے ذریعے پاکستان میں افراتفری پھیلانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مودی اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ، مسلم مخالف بیانیہ کھل کر سامنے آگیا
پاکستان واضح کرتا آیا ہے کہ اگر افغانستان کو کسی بھی ملک کی جانب سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا تو اس کے نتائج پورے خطے کے امن پر مرتب ہوں گے، اور اس کی ذمہ داری بھی انہی عناصر پر عائد ہوگی جو اس کھیل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم کا دورہ اسرائیل خالصتاً پاکستان مخالف منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی ایک کڑی ہے تاہم معرکہ حق اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران عملی طور پر واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان کے عوام اور سکیورٹی ادارے پاکستان پر مسلط کی جانے والی کسی بھی نوعیت کی جنگ میں دشمن کے حجم، عسکری برتری اور بیرونی امداد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔




