نیلم :بالائی وادی نیلم میں واقع سرگن ہائیڈرل پاور پراجیکٹ کی انتظامی نااہلی ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے، جہاں نوتعمیر شدہ واٹر چینل میں لیکج پیدا ہونے کے باعث بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد آبادی گزشتہ تین روز سے اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہے، جس پر عوامی غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم فیصل راٹھور کی نیلم اورحویلی میں بجلی منصوبے مکمل کرنے کی ہدایت
ذرائع کے مطابق اتوار کے روز سرگن ہائیڈرل پاور پراجیکٹ (3.2 میگاواٹ) کا مرکزی واٹر چینل متعلقہ محکمہ کی غفلت کے باعث اچانک لیکج کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار فوری طور پر بند کر دی گئی۔
ابتدائی طور پر دو گھنٹے کے لیے عارضی بنیادوں پر بجلی بحال کی گئی، تاہم تکنیکی خرابی برقرار رہنے کے باعث سپلائی دوبارہ معطل ہو گئی۔
پراجیکٹ ڈائریکٹر (PDO) کی جانب سے بجلی کی بحالی کے لیے دی گئی دوسری ڈیڈ لائن بھی ہوائی ثابت ہوئی، جس پر صارفین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
مقامی شہریوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ نیا تعمیر شدہ واٹر چینل اگر چند ہی ماہ میں لیکج کا شکار ہو جائے تو یہ کھلی نااہلی اور ناقص مٹیریل کے استعمال کا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہٹیاں بالا، بجلی چوروں کیخلاف گرینڈ آپریشن، متعدد کنکشن منقطع ،وارننگ جاری
عوامی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ افسران اور سٹاف کی عدم دلچسپی اور ناقص نگرانی کے باعث قیمتی قومی منصوبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
رمضان المبارک میں سحری و افطاری کے اوقات میں بجلی کی عدم دستیابی نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
متاثرین نے حکومت آزاد کشمیر اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرگن ہائیڈرل پاور پراجیکٹ کے نااہل سٹاف اور افسران کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے۔
واٹر چینل کی لیکج اور منصوبے کی مجموعی کارکردگی پر شفاف انکوائری کرائی جائے۔بجلی کی فوری اور مستقل بحالی کو یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: گھریلو بجلی صارفین پر فکسڈ چارجزعائد،نیپرا کا نوٹیفکیشن جاری
عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال فوری طور پر بہتر نہ ہوئی تو احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔




