گمنام شخص نے ترقیاتی کاموں کیلئے’’21 کلو سونے کی اینٹیں‘‘ عطیہ کردیں

پانی اور سیوریج کے پرانے نظام سے پریشان عوام کی مشکل آسان ہو گئی اور ترقیاتی کاموں کے لیے 21 کلو سونے کی اینٹیں عطیہ کر دی گئیں تاہم یہ مشکل پاکستانی عوام کی نہیں بلکہ جاپان کے شہر اوساکا کے لوگوں کی ہوئی ہے۔

جاپان میں ایک گمنام ڈونر نے ترقیاتی کاموں کے لیے ایک دو نہیں بلکہ 21 کلو سونے کی اینٹیں عطیہ کر دیں جو انتظامیہ کو مل بھی گئی ہیں اور اس کی مالیت 26 لاکھ ڈالرز (پاکستانی ایک ارب روپے سے زائد) بتائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میرپورپولیس کی بڑی کارروائی،2کروڑ مالیتی سونا برآمد ،ملزم گرفتار

جاپانی میڈیا کے مطابق میئر اوساکا کا کہنا ہے کہ سونے کی 21 کلو اینٹیں ایک پرسرار شخص نے اوساکا میں پانی اور سیوریج کے پرانے پائپوں کو تبدیل کرنے کے لیے عطیہ کی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس شخص کو کوئی نہیں جانتا، جب کہ اس سے قبل یہی شخص 5 لاکھ ین نقد رقم بھی عطیہ کر چکا ہے۔

میئر اوساکا کا کہنا تھا کہ پرانے پائپس بدلنے کے لیے بہت بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ یہ بندوبست ہونے کے بعد کام کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سیوریج پائپ لائن کے بنیادی ڈھانچے میں نقائص کے باعث سڑکوں پر گڑھے پڑنے کے واقعات بڑھ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:شیخ حسینہ واجد کے بینک لاکرز سے 37 کروڑ روپے مالیتی سونا ضبط

جاپان کے شہر اوساکا میں واٹر انفراسٹرکچر کی مرمت کے لیے کسی نامعلوم ڈونر نے میئر کو لاکھوں ڈالر کا سونا عطیہ کر کے حیران کر دیا۔ کیا پاکستان کے بڑے شہروں میں کبھی ایسا ہو سکتا ہے۔

Scroll to Top