ریاض:سعودی قیادت کی ہدایات پر پاکستان کے باہم جڑے ہوئے بچے سفیان اور یوسف اہل خانہ کے ہمراہ پیر کو آپریشن کے لیے ریاض پہنچ گئے۔
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد بچوں کو فوری طور پر نیشنل گارڈ کے کنگ عبداللہ سپیشلسٹ چلڈرن ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا طبی معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر فریحہ افراہیم خودکشی کیس، 9رکنی ایکسٹرنل ریویو کمیٹی قائم، نوٹیفکیشن جاری
بچوں کے اہل خانہ نے آپریشن کے معاملے پر فوری ردعمل، پرجوش خیرمقدم اور مہمان نوازی پر سعودی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
شاہ سلمان مرکز کے سپروائرز جنرل، جڑے ہوئے بچوں کی سرجری کے لیے میڈیکل اور سرجیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ العربیہ نے انسانی ہمدردی کے اس اقدام پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہاکہ جڑے ہوئے بچوں کو جدا کرنے کی سرجری میں سعودی ٹیم کی مہارت نے مملکت کو اس شعبے میں ایک عالمی رہنما بننے میں مدد کی اور یہ علاج کے خواہش مند خاندانوں کے لیے امید کی کرن ہے۔
یاد رہے سعودی عرب جڑے بچوں کو الگ کرنے کے سب سے زیادہ آپریشن کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ سعودی عرب کی ان کاوشوں کا اعتراف دنیا بھر کے ممالک اور تنظیمیں کر رہی ہیں۔
1990 سے اب تک اس طرح کے کامیاب آپریشنوں میں سعودی عرب نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔35 برسوں کے دوران سعودی عرب میں 28 ممالک کے 67 جڑے ہوئے بچوں کو آپریشن کے ذریعے علیحدہ کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صحت کارڈسہولت بحال،راولپنڈی سمیت متعدد ہسپتال شامل کرلئے، بازل علی نقوی
اس سے قبل ریاض میں جڑواں پاکستانی بچیوں یارا اور لارا کی کامیاب علیحدگی کی سرجری کی گئی تھی ۔
یاد رہے کہ آپریشن کے تمام اخراجات خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان برداشت کرتے ہیں۔




