سکیورٹی فورسز نے لاپتہ فوجی جوانوں کی بازیابی کیلئے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مربوط اور ہدفی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں ۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ آپریشنز خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد دشمن عناصر کے نیٹ ورک کو توڑنا اور مغوی اہلکاروں کو بحفاظت بازیاب کرانا ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ فورسز مکمل پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کارروائی کر رہی ہیں تاکہ شہری آبادی کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے ۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں کئی مشتبہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے ہیں ، جہاں سے اسلحہ اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کیے گئے ۔ ان کارروائیوں کو دہشت گردی کیخلاف جاری وسیع تر مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سکیورٹی فورسز کی پشین میں پاک افغان سرحد پر کارروائی، ماسٹر مائنڈسمیت 7خوارج مارے گئے
حکام نے کہا ہے کہ دشمن عناصر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم سکیورٹی فورسز ان عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پُرعزم ہیں ۔
فوجی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور اپنے جوانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے ۔ ان کے مطابق مغوی اہلکاروں کی بازیابی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور یہ جدوجہد آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی ۔
انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ قومی سلامتی کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:افغان صوبہ ننگرہار،پکتیکااورخوست میں فتنہ الخوارج کےٹھکانوں پربڑی کارروائی ، 80سےزائدخارجی ہلاک
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں نہ صرف سکیورٹی صورتحال کو مستحکم کرتی ہیں بلکہ فورسز کے عزم اور صلاحیت کا بھی مظہر ہیں ۔ عوامی حلقوں نے بھی سکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اُمید ظاہر کی ہے کہ لاپتہ جوان جلد بحفاظت اپنے اہل خانہ میں واپس ہوں گے ۔




