کچھ نہیں بدلا، بھارت ٹیرف ادا کرتا رہیگا، ڈونلڈ ٹرمپ،نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے سے متعلق صدارتی اقدامات کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے تمام ممالک پر 10 فیصد گلوبل ٹیرف عائد کر دیا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ نے نئے ٹیرف سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دئیے ہیں، جس کے تحت 10 فیصد نیا ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تمام سابقہ تجارتی معاہدے برقرار رہیں گے تاہم ان پر عملدرآمد کا طریقہ کار تبدیل کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سپریم کورٹ نے ٹیرف غیرقانونی قرار دیدیا، ٹرمپ کا سخت ردعمل، متبادل پلان کا اعلان

صدر ٹرمپ نے عدالتی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ججز سیاسی اثر و رسوخ میں کام کر رہے ہیں اور عدالت غیر ملکی مفادات کے زیر اثر آ گئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی انتظامیہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

صدر ٹرمپ نے بھارت کے حوالے سے بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ماضی میں امریکہ سے تجارتی فائدہ اٹھاتا رہا، تاہم اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔

ان کے بقول ہم بھارت کو ٹیرف ادا نہیں کر رہے بلکہ بھارت ہمیں ٹیرف ادا کر رہا ہے۔ یہ ایک منصفانہ معاہدہ ہے اور پچھلے نظام کے برعکس ہے۔

صدر ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حوالے سے کہا کہ وہ شریف آدمی ہیں لیکن ہوشیاری دکھا رہے تھے، ماضی میں بھارت نے مذاکرات میں زیادہ فائدہ اٹھایا لیکن اب نیا معاہدہ امریکہ کے مفاد میں ہے اور مکمل ہو چکا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ کا یہ اقدام امریکی تجارتی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت سے پاک بھارت جنگ رکی،وزیراعظم شہبازشریف

10 فیصد گلوبل ٹیرف کے نفاذ سے عالمی منڈیوں، درآمدات اور برآمدات پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے ممکنہ ردعمل بھی متوقع ہے۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملکی صنعت، روزگار اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاہم ناقدین کے مطابق اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Scroll to Top