مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)سربراہ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے حالیہ اپوزیشن کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اپوزیشن کو تنقید کا مکمل حق حاصل ہے ۔
سینئر قیادت کی آراء قابل احترام ہیں، تاہم “متحدہ اپوزیشن” کی اصطلاح استعمال کرتے وقت ایوان میں موجود تمام اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانا ایک بڑا اور سنجیدہ فیصلہ ہوتا ہے جس سے قبل اتحادیوں اور ہم خیال جماعتوں سے باقاعدہ مشاورت ناگزیر ہے۔
؎
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے اہم معاملات پر پیشگی آگاہی نہ ہو تو ردعمل دینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔سردار عتیق احمد خان نے موجودہ پارلیمانی صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج اسمبلی کے اندر حکومت اور اپوزیشن کی صف بندی میں ابہام پایا جاتا ہے۔
بعض ایسے افراد بھی اپوزیشن میں بیٹھے ہیں جو ماضی میں حکومت سازی کا حصہ رہے۔ حکومت بناتے وقت کیے گئے فیصلوں اور اتحادوں کو مدنظر رکھنا چاہیے اور بار بار عدم اعتماد کی فضا قائم کرنا سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمانی سیاست میں عدم اعتماد ایک آئینی حق ہے اور جہاں اکثریت ہو وہاں یہ کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم آزاد کشمیر اس وقت کسی نئے پارلیمانی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر بھر میں ہیلتھ ملازمین کا احتجاج، ہزاروں افراد کی شرکت
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف جیسی بڑی جماعتوں کو تمام اہم فیصلے اپنی مرکزی قیادت سے مشاورت کے بعد کرنے چاہئیں تاکہ عوام کے سامنے کوئی ابہام پیدا نہ ہو۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ تقرریوں، تبادلوں اور ترقیاتی فنڈز پر تنقید اپوزیشن کا حق ہے، مگر عدم اعتماد کو آخری آپشن کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے موجودہ وزیراعظم کو ایک ملنسار اور قابل رسائی سیاسی شخصیت قرار دیتے ہوئے تجویز دی کہ اپوزیشن اپنے تحفظات براہِ راست ان کے سامنے رکھے اور باہمی مشاورت سے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔
انہوں نے ماضی کی سیاسی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدم اعتماد کے تسلسل نے خطے میں پارلیمانی عدم استحکام کو جنم دیا، جس کا خمیازہ پورے نظام کو بھگتنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کی فضا بن رہی ہے، ایسے میں کسی بھی قسم کی افراتفری یا لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا کرنا دانشمندی نہیں ہوگی، کیونکہ بعض عناصر انتخابات کے التوا یا سبوتاژ کے خواہاں ہو سکتے ہیں۔
سردار عتیق احمد خان نے زور دیا کہ “متحدہ اپوزیشن” کی اصطلاح استعمال کرتے وقت تمام اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے اور اکثریتی رائے کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں کے مؤقف کا بھی احترام کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر عدم اعتماد کے حق میں نہیں اور چاہتے ہیں کہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے اور فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان سے براہِ راست رابطہ کیا جاتا تو وہ نجی سطح پر اپنا مؤقف پیش کرتے تاہم چونکہ یہ معاملہ سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آیا اس لیے انہوں نے بھی عوامی سطح پر اپنا ردعمل دینا مناسب سمجھا ۔۔۔




