آزادکشمیر بھر میں ہیلتھ ملازمین کا احتجاج، ہزاروں افراد کی شرکت

راولاکوٹ ،حویلی کہوٹہ (بیورو رپورٹ)ہیلتھ ایمپلائز فیڈریشن آزاد کشمیر کی کال پر ریاست بھر کی طرح راولاکوٹ اور حویلی میں بھی چارٹر آف ڈیمانڈ کے سلسلہ میں ہیلتھ ملازمین کی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

ریلی میں ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن، پرائیویٹ ہیلتھ ایمپلائز ایسوسی ایشن، مڈوائف کمیونٹی، ایپکا، پمسا، ینگ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز، نرسنگ اسٹاف اور سپورٹنگ اسٹاف یونین کے ہزاروں ملازمین نے بھرپور شرکت کی۔۔

ملازمین سی ایم ایچ سے ریلی کی صورت میں شہر بھر کا چکر لگاتے ہوئے غازی پریس کلب کے سامنے جمع ہوئے جہاں انہوں نے پُرامن احتجاج کیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ٹی 20ورلڈ کپ سپر ایٹ: کون سی ٹیم کب کس کے مد مقابل ہوگی؟شیڈول جاری

جلسے کی صدارت سردار خورشید اقبال (ایچ ای او) نے کی جبکہ نظامت کے فرائض سردار رفاقت حسین طاہر نے انجام دیئے۔

مقررین میں سردار خالد محمود خان (سرپرستِ اعلیٰ ایچ ای او)، محمد امتیاز خان (پمسا)، ایس ایم عارف خان (ایپکا)، منصور خان (پمسا)، خالق شام (ایڈیشنل سیکرٹری)، فیاض خان (پمسا)، انیس اکرم (ایچ ای او عباسپور)، عابد بشیر (سی ایم ایچ)، صفیہ خلیل (نیشنل پروگرام) اور شبنم بیگم (سی ایم ایچ) سمیت دیگر نے شرکت کی ۔

مقررین نے اپنے خطاب میں حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کئے جائیں۔

اس موقع پر سردار خالد محمود خان نے کہا کہ ہیلتھ ایمپلائز فیڈریشن آزاد کشمیر (HEF) کے پلیٹ فارم سے مطالبات کی منظوری تک روزانہ صبح 10 بجے سے دوپہر 12 بجے تک ٹوکن ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں 26 فروری کو اجلاس بلا کر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ 27 فروری کو آزاد کشمیر کے دسوں اضلاع میں بھرپور احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے جن میں تمام ملازمین اپنی شرکت یقینی بنائیں گے۔

آخر میں سردار رفاقت حسین طاہر نے قراردادیں پیش کیں جنہیں کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے ۔

ضلع حویلی کہوٹہ میں ہیلتھ ایمپلائز کی جاری ہڑتال آج آٹھویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔ ملازمین نے اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک تحریری یقین دہانی نہیں ملتی، احتجاجی کیمپ ختم نہیں کیا جائے گا۔

ہڑتال کے باعث ضلع بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی سروسز مکمل طور پر بند ہیں، جبکہ ایمرجنسی سروسز محدود پیمانے پر بحال رکھی گئی ہیں۔ مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، خصوصاً دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو علاج معالجہ کے حصول میں پریشانی اٹھانا پڑ رہی ہے۔

ہیلتھ ایمپلائز فیڈریشن کے نمائندگان کے مطابق ان کے مطالبات میں تنخواہوں اور مختلف الاؤنسز میں اضافہ، رسک الاؤنس کی فوری ادائیگی، سروس اسٹرکچر کی منظوری، عارضی ملازمین کی مستقل بنیادوں پر تعیناتی اور دیگر مراعات میں بہتری شامل ہیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ متعدد بار حکام کو تحریری و زبانی طور پر آگاہ کیا گیا، تاہم تاحال کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ملازمین کے مطالبات سے متعلق اعلیٰ سطح پر مشاورت جاری ہے اور جلد مثبت پیش رفت متوقع ہے۔ شہری حلقوں نے ہڑتال کے باعث علاج معالجہ کی سہولیات متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل کی ہے۔

احتجاجی ملازمین نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاجی کیمپ جاری رکھا جائے گا، جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان باہمی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

Scroll to Top