جہلم ویلی: ایم ایس ڈاکٹر یٰسین کے تبادلے کیخلاف عوام سڑکوں پر، پہیہ جام کی دھمکی

ہٹیاں بالا (کشمیر ڈیجیٹل نیوز) ضلع جہلم ویلی کی فضا اُس وقت شدید کشیدہ ہو گئی جب عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور ڈاکٹر محمد یاسین سے بطور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ چارج واپس لینے کے فیصلے کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔

احتجاجی ریلی شاہراہ سرینگر پر نکالی گئی جس نے بعد ازاں ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا کے سامنے دھرنے کی شکل اختیار کر لی۔ اس احتجاجی قافلے کی قیادت سید زیشان حیدر نے کی جبکہ مختلف سماجی، سیاسی اور عوامی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے حکومتی فیصلے کو ناانصافی، سازش اور میرٹ کے قتل سے تعبیر کیا اور واضح اعلان کیا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر اندر ڈاکٹر محمد یاسین کو ان کا عہدہ واپس نہ دیا گیا تو آئندہ جمعہ تک پورے جہلم ویلی میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔

مقررین کے مطابق اس احتجاج کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہو گی۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سید زیشان حیدر نے انتہائی سخت اور دبنگ انداز میں کہا کہ ڈاکٹر محمد یاسین سے چارج واپس لینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک منظم سازش ہے جس کا مقصد جہلم ویلی کے عوامی اداروں کو کمزور کرنا ہے۔

انہوں نے بعض سیاسی شخصیات اور حکام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہی عناصر مسلسل ضلع کے اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور میرٹ کی پامالی کو فروغ دے رہے ہیں ۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کے جائز مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو احتجاج صرف ہٹیاں بالا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے ضلع میں تحریک شدت اختیار کرے گی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں نہیں پہنچے گی : محمد عامر

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمرانوں نے جہلم ویلی کو تجربہ گاہ بنا دیا ہے جہاں آئے روز حق تلفیاں، میرٹ کی پامالیاں، جعلی تقرریاں اور انتقامی تبادلے کیے جا رہے ہیں ۔

مقررین نے الزام عائد کیا کہ بعض محکموں میں کرپٹ اور بدعنوان افسران کو تعینات کیا جا رہا ہے جن کے ذریعے رشوت ستانی، بدانتظامی اور عوامی وسائل کے غلط استعمال کا بازار گرم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی اداروں میں نہ صرف بدعنوانی بڑھ رہی ہے بلکہ انسانی جانوں تک کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ احتجاجی رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ ضلع کے اہم شعبوں خصوصاً صحت اور تعلیم کے منصوبوں میں جہلم ویلی کو دانستہ نظر انداز کیا گیا۔

تعلیمی اور صحت پیکجز میں یہاں کے اداروں کو شامل نہ کرنا عوام کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے مستقبل اور عوامی سہولیات پر سیاست کرنا قابل مذمت ہے۔

ڈاکٹر محمد یاسین کے حوالے سے مقررین کا کہنا تھا کہ انہوں نے دن رات محنت کر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ہٹیاں بالا کو ایک فعال طبی مرکز بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ایمرجنسی نظام کو بہتر بنایا، ڈاکٹروں کی کمی کو کم کرنے کی کوشش کی، آپریشن تھیٹر کو فعال کیا اور ہسپتال کو حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا ادارہ بنایا۔

ان اقدامات کے باعث عوام کا اعتماد بحال ہوا جو ماضی میں بری طرح متاثر ہو چکا تھا۔ مقررین کے مطابق انہی اصلاحات سے کچھ مفاد پرست عناصر کو خطرہ محسوس ہوا اور انہوں نے سازش کے ذریعے ڈاکٹر محمد یاسین کو ہٹانے کی راہ ہموار کی۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو ایک فعال ادارہ دوبارہ بدانتظامی کا شکار ہو سکتا ہے۔ احتجاج سے خطاب کرنے والوں میں راجہ جمیل صدیق ایڈووکیٹ، شاہد ہمدانی ایڈووکیٹ، عامر روشن اعوان اور سید زین السلام ایڈووکیٹ شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ دو سال قبل ضلع میں گریڈ 18 کے افسران دستیاب نہیں تھے اور کوئی یہاں تعیناتی کے لیے تیار نہیں تھا، لیکن اب اچانک سکیل کو جواز بنا کر ایک قابل اور محنتی ڈاکٹر کو ہٹایا جا رہا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔

مقررین نے مزید کہا کہ ضلع جہلم ویلی میں کئی ایسے محکمے موجود ہیں جہاں مطلوبہ گریڈ کے افسران تعینات ہی نہیں، مگر وہاں حکومت کو کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔

حکمران اور بیوروکریسی ’’کام چلاؤ پالیسی‘‘ کے تحت اداروں کو چلا رہے ہیں جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ احتجاجی قیادت نے اعلان کیا کہ جہلم ویلی کے عوام اپنے اداروں کو تباہ ہونے نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ظلم اور ناانصافیوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو عوام فیصلہ کن جدوجہد کریں گے اور ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔

آخر میں سید ذیشان حیدر نے واضح الفاظ میں کہا:“یہ صرف ایک ڈاکٹر کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ضلع کے وقار اور عوام کے حق کا مسئلہ ہے۔

اگر اگلے جمعہ تک ڈاکٹر محمد یاسین کو ان کا چارج واپس نہ دیا گیا تو جہلم ویلی مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی طرف جائے گی اور اس تحریک کو کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔”

سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے نے ضلع میں ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

Scroll to Top