آزاد کشمیر: جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نئے چیف الیکشن کمشنر مقرر، نوٹیفکیشن جاری

مظفرآباد : آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

محکمہ قانون، انصاف، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 50 کے سب آرٹیکل (3) کے تحت تفویض کردہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے صدر ریاست نے چیئرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل کی مشاورت سے یہ اہم تقرری کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیف الیکشن کمشنرتقرری : کشمیر ڈیجیٹل کے تجزیہ کار فرقان گردیزی کی 10 دن قبل دی گئی خبر سچ ثابت ہوگئی !

نوٹیفکیشن کے مطابق، جسٹس (ریٹائرڈ) غلام مصطفیٰ مغل کو پانچ سال کی مدت کے لیے آزاد جموں و کشمیر کا چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔ اس تقرری کا مراسلہ کنٹرولر گورنمنٹ پرنٹنگ پریس سمیت تمام متعلقہ حکام، بشمول سیکرٹری صدر، سیکرٹری وزیراعظم اور رجسٹرار سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کو ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ اسے گزٹ میں شائع کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: چیف الیکشن کمشنرتعیناتی، تجزیہ نگار عبدالمنان سیف اللہ اور فرقان گردیزی کی خبر سچ ثابت ہوئی

واضح رہے کہ یہ تقرری ایک نہایت اہم موقع پر ہوئی ہے، کیونکہ صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر کے انتخاب میں صرف گیارہ دن باقی ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کے آئندہ عام انتخابات میں تقریباً ساڑھے پانچ ماہ رہ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس تقرری سے انتخابی عمل کی شفافیت اور آئینی تسلسل کو تقویت ملے گی۔

جسٹس (ریٹائرڈ) غلام مصطفیٰ مغل آزاد جموں و کشمیر کی عدلیہ میں طویل عرصے تک خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ 30 جنوری 2002ء کو آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے، جس کے بعد 4 جنوری 2010ء کو انہیں ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 18 فروری 2016ء کو بھی انہیں چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر مقرر کیا گیا تھا، جہاں ان کی زیرِ نگرانی شفاف اور غیرجانبدار انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا۔ بعد ازاں 30 مارچ 2017ء کو وہ سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے جج تعینات ہوئے اور اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد 2020ء کے آخر یا 2021ء کے آغاز میں ریٹائر ہوئے۔

جسٹس غلام مصطفیٰ مغل کا تعلق مظفرآباد کے گاؤں بلگران سے ہے، جہاں وہ 25 دسمبر 1955ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج مظفرآباد اور پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1980ء کی دہائی میں وکالت سے اپنے عملی کیریئر کا آغاز کیا۔ عدالتی حلقوں میں انہیں عدالتی اصلاحات، انصاف تک عوامی رسائی اور عدالتی وقار کے فروغ کے حوالے سے ایک معتبر اور تاریخی فیصلوں والی شخصیت کے طور پر سراہا جاتا ہے۔

Scroll to Top