اسلام آباد:ریاستی دارالحکومت مظفرآباد میں اپوزیشن کی ہونیوالی پریس کانفرنس کے آفٹر شاکس آنے کا سلسلہ جاری ہے ، مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے بعد پی ٹی آئی آزادکشمیر کی قیادت بھی تقسیم ہو گئی ہے اور ایک دوسرے پر الزامات لگا دیئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) آزادکشمیر کے صدر سردار عبدالقیوم نیازی نے پریس کانفرنس سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے سینئر سیاستدان ، سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق پریس کانفرنس میں شمولیت کو ذاتی فعل قرار دیدیا ہے جس پر خواجہ فاروق نے ردعمل دیتے ہوئے سردار عبدالقیوم نیازی کا دعویٰ مسترد کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کارکنوں نے پارٹی قیادت کے ناقابل قبول فیصلے دل پرپتھر رکھ کر برداشت کئے، طارق فاروق
صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر و سابق وزیر اعظم سردار عبد القیوم نیازی نے پریس کانفرنس سے تعلقی کا اعلان کرتے ہوئے فیس بک پوسٹ میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں (Rules of Business ) کے تحت اپوزیشن کا حصہ ضرور ہے لیکن کسی بھی جماعت کے ذاتی ایجنڈے کا حصہ نہیں۔
خواجہ فاروق احمد کا پریس کانفرنس میں بیٹھنا ان کا ذاتی فعل ہے ، پارٹی پالیسی ہرگز نہیں ۔ پی ٹی آئی نہ پہلے عدم اعتماد کا حصہ بنی اور نہ ہی آگے بنے گی۔
دوسری طرف سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب سپیکر اسمبلی نے اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کیا تو اس پر تمام اپوزیشن ممبران نے اس اقدام کی مذمت کی اور فیصلہ ہواکہ سپیکر کے اس غیرجمہوری اقدام کو فورم پر بےنقاب کیا جائے گا۔
متحدہ اپوزیشن کے اجلاس میں کیے گئے ان فیصلوں میں پریس کانفرنس کرنا بھی شامل تھا، صدر پی ٹی آئی عبدالقیوم نیازی کی موجودگی میں یہ فیصلے ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر حکومت اکثریت کھو چکی، رویہ درست نہ کیا تو عدم اعتماد لائیں گے: مشترکہ اپوزیشن کا اعلان
بعد ازاں صدر جماعت اور پارلمانی لیڈر نے میڈیا ٹاک بھی کی جس میں خواجہ فاروق احمد کی عمران خان کی صحت و رہائی کے حوالے سے اسمبلی میں جمع کروائی گئی قرارداد کو بھی پیش نہ ہونے دینے کی مذمت کی گئی۔
انہوں نے کہا تھا کہ اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ خواجہ فاروق احمد کی عمران خان کی صحت و رہائی سے متعلق قرارداد اسمبلی میں پیش نہ کرنی پڑے، اس لیے سپیکر اسمبلی نے اجلاس ملتوی کیا۔
سابق اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اب صدر جماعت کا یہ کہنا کہ پریس کانفرنس میں شرکت خواجہ فاروق احمد کا ذاتی فعل ہے،ایسا ہرگز نہیں ہے۔
تحریک انصاف آزادکشمیر اسمبلی میں بطور اپوزیشن موجود ہے اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عوامی حقوق اور عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ غلام قادر کی پریس کانفرنس کا مسلم لیگ ن سے کوئی تعلق نہیں ، افتخار گیلانی
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نا پہلے کسی عدم اعتماد کا حصہ بنی اور نا آگے بنے گی۔ ایسے تمام فیصلے مرکزی قیادت کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔
خواجہ فاروق کا کہنا تھاکہ ہم کل بھی عمران خان کے ساتھ تھے، آج بھی عمران خان کے ساتھ ھیں اور کل بھی عمران خان کے ساتھ رہیں گے۔




