اسلام آباد:وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں عوامی معاہدے کے 37 مطالبات میں سے 17 پر مکمل عمل درآمد ہو چکا ہے۔
بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ، آزادکشمیر کے وزراء قاسم مجید،دیوان چغتائی اور چیف سیکرٹری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ کابینہ کے حجم کو 20 وزراء تک محدود کر کے ایک اہم عوامی مطالبہ پورا کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عملدرآمد کمیٹی کے اجلاس میں آنے کی بجائے لیت و لعل سے کام لے رہی ہے، احتجاج کسی مسئلہ کا حل نہیں، مسائل بات چیت اور مذاکرات سے ہی حل ہوں گے، اب 26 فروری کو اس کا اجلاس ہونا ہے، توقع ہے کہ ایکشن کمیٹی اس میں سنجیدگی دکھائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیرانجینئر امیر مقام کا دورہ راولاکوٹ، 446 طلباء طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم
انہوں نے کہاکہ معطل ملازمین کو بحال کر دیا گیا ہے اور 3 ستمبر 2025 کے واقعات میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضے اور نوکریاں فراہم کی جا چکی ہیں، جن میں 8 افراد کے اہل خانہ کو 120 ملین روپے سے زائد کی ادائیگیاں دی گئی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ مظاہرین کے خلاف درج 177 ایف آئی آرز واپس لے لی گئی ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی طرز پر پراپرٹی ٹیکس میں اصلاحات نافذ کی جا چکی ہیں اور بجلی کے میٹرز کی شفاف تنصیب کے لیے ٹینڈرنگ مکمل کی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ نیب قوانین کے مطابق احتسابی نظام کا نفاذ ہو گیا ہے اور منگلا ڈیم کے متاثرین کے مسائل کے حل پر کام جاری ہے۔ گل پور اور رحمان گلپور پل کی بحالی کے لیے ٹینڈر جاری ہو چکا ہے جبکہ مظفرآباد اور کوٹلی میں 2 نئے تعلیمی بورڈز کی منظوری دی گئی ہے۔
امیر مقام نے بتایا کہ 9.9 ارب روپے کی لاگت سے صحت کے 3 بڑے منصوبے منظور کر لیے گئے ہیں اور بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے کی اسکیم آخری مراحل میں ہے۔
کشمیر کالونی واٹر سپلائی اسکیم اے ڈی پی 26-2025 میں شامل ہے، 10 اضلاع میں پانی کی فراہمی کے منصوبوں میں سے پانچ مکمل ہو گئے ہیں جبکہ باقی 5 پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہاکہ ضلعی سطح پر ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں نصب کی جا چکی ہیں، 10 ارب روپے کے ڈیولپمنٹ فنڈز پر کام تیزی سے جاری ہے، اور 12 یونینز کے مسائل کے حل کے لیے وزارتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایکشن کمیٹی میں بڑھتے اختلافات پر عمر نزیر کشمیری کا دوٹوک مؤقف
میرپور ایئر پورٹ کی فزیبلٹی آخری مرحلے میں ہے اور جائیداد حقوق کی پالیسی آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
امیر مقام نے مزید کہاکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں اصلاحات زیر غور ہیں، مہاجرین کی نشستوں کے لیے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
دانش اسکولوں کی تعداد تین سے بڑھا کر 5 کر دی گئی ہے اور دانش یونیورسٹی کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز کنونشن منعقد کیا گیا ہے جس میں وفاق کی نمائندگی میں نے کی اور انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کیساتھ ہونے والے معاہدے کی مانیٹرنگ اور عملدرآمد کیلئے وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی ان کی سنجیدگی اور کشمیری عوام کو سہولیات کی فراہمی کی عکاس ہے، وہ فنڈز کی ترسیل بھی یقینی بنا رہی ہے
آزاد کشمیر حکومت کے وزیر چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر 99 فیصد عملدرآمد ہو چکا ہے، کمیٹی سے استدعا ہے کہ وہ ڈیڈ لاک ختم کرے، معاملات مذاکرات سے ہی آگے بڑھیں گے۔
دیوان علی خان چغتائی نے کہا کہ معاہدے کے کچھ نکات سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے گئے ہیں، معاہدے پر مثبت انداز میں عملدرآمد جاری ہے، ریاست جموں و کشمیر کے بہتر مستقبل کیلئے ہم سب کو مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: اوور سیز کانفرنس ،وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ کوئی بڑا اعتراض نہیں ہے کہ اس بنیاد پر اجلاس میں شرکت نہ کی جائے۔
امیر مقام نے کہا کہ انہیں گذشتہ روز اطلاع مل گئی تھی کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہو رہی، اس لئے ہم نے ضروری سمجھا کہ عوام کو حقائق سے آگاہ کریں۔
وفاقی اور آزاد کشمیر حکومت کا یہ واضح مؤقف ہے کہ احتجاج کسی مسئلے کا حل نہیں، مسائل بات چیت سے ہی حل ہوں گے۔
ایک سال کے جواب میں امیر مقام نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں کی پریس کانفرنس کا معاملہ اسمبلی میں ہی حل کر لیا جائیگا،اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے۔




