پی ایم رمضان ریلیف پیکیج : اہلیت اور رجسٹریشن کی تفصیلات جاری

حکومتِ پاکستان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ‘وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج 2026’ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت مستحق خاندانوں کو 13 ہزار روپے کی براہِ راست مالی امداد فراہم کی جائے گی۔

اس پروگرام کا بنیادی مقصد ماہِ صیام کے دوران کم آمدنی والے گھرانوں کو خوراک، بجلی، گیس اور دیگر ضروریاتِ زندگی کے اخراجات میں ریلیف فراہم کرنا ہے۔ جدید نظام کے تحت اب امداد کی ترسیل کے لیے روایتی سبسڈی کے بجائے براہِ راست نقد رقم کی منتقلی کا طریقہ اپنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا رمضان ریلیف پیکج کا اعلان: مستحقین کے لیے جدید اور شفاف نظام متعارف

سرکاری اعلامیہ کے مطابق، اہل خاندانوں کو یہ رقم بینک اکاؤنٹس، رجسٹرڈ موبائل والٹس جیسے ایزی پیسہ اور منظور شدہ سرکاری ادائیگی مراکز کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ اہلیت کے معیار کے مطابق، یہ امداد ان خاندانوں کو ملے گی جو قومی فلاحی ڈیٹا بیس میں رجسٹرڈ ہیں اور سرکاری غربت اسکور پر پورا اترتے ہیں۔ مستفیدین کو ادائیگی کی اطلاع ایس ایم ایس کے ذریعے دی جائے گی تاکہ وہ بغیر کسی طویل قطار کے اپنی رقم باآسانی حاصل کر سکیں۔ حکام نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی اہلیت کی جانچ صرف سرکاری پورٹلز سے کریں اور کسی بھی غیر متعلقہ ویب سائٹ یا ایجنٹ پر اعتماد نہ کریں۔

رقم کے حصول کا طریقہ کار:
اہل خاندان 13,000 روپے کی امداد درج ذیل ذرائع سے حاصل کر سکیں گے:

تصدیق شدہ بینک اکاؤنٹس،رجسٹرڈ موبائل والٹس (جیسے ایزی پیسہ)،منظور شدہ سرکاری ادائیگی شراکت دار۔

ادائیگی ہونے پر مستفید افراد کو ایس ایم ایس (SMS) کے ذریعے مطلع کیا جائے گا تاکہ لمبی قطاروں سے بچا جا سکے۔

اہلیت کا معیار:
اس پروگرام کے لیے اہل خاندانوں میں درج ذیل شامل ہیں:کم آمدنی والے گھرانے،قومی فلاحی ڈیٹا بیس میں رجسٹرڈ خاندان،سرکاری غربت اسکور پر پورا اترنے والے گھرانے،پہلے سے تصدیق شدہ سماجی معاونت کے مستفید افراد،وہ خاندان جو بڑے امدادی پروگراموں میں شامل نہیں مگر آمدنی کی حد پر پورا اترتے ہیں،درخواست دہندگان کے لیے سرکاری ریکارڈ میں معلومات اپ ڈیٹ کرنا اور تصدیق کروانا لازمی ہے۔

اہلیت اور ادائیگی کی جانچ کا طریقہ:

مستفید افراد اپنی حیثیت کی تصدیق ان طریقوں سے کر سکتے ہیں:

سرکاری ویب پورٹلز پر جا کر،مجاز نمبروں سے موصول ہونے والے ایس ایم ایس چیک کر کے،منظور شدہ ادائیگی مراکز سے رابطہ کر کے،
شہریوں کو جعلی ویب سائٹس اور ایجنٹوں سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ڈیجیٹل نگرانی اور شفافیت:

2026 کے پیکیج میں نظام کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:

مستفید افراد کی خودکار تصدیق،ادائیگیوں کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ (فوری نگرانی)،دستی کام (Manual Processing) میں کمی،محفوظ ڈیجیٹل ٹرانسفر چینلز کا استعمال تاکہ فنڈز کی منصفانہ تقسیم یقینی ہو۔

مزید پڑھیں: رمضان اللہ کی نعمتوں کی قدر دانی کا مقدس مہینہ ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

 

Scroll to Top