مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس سپیکر چوہدری لطیف اکبر کی صدارت میں شروع ہوا، تاہم آغاز ہی سے ایوان میں کشیدگی اور گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ حکومتی بنچوں پر صرف ایک وزیر قاسم مجید کی موجودگی پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور دیگر وزراء کی عدم موجودگی کو ایوان کی توہین قرار دیا۔
سپیکر اسمبلی اور صدر مسلم لیگ (ن) کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ شاہ غلام قادر کا کہنا تھا کہ وزراء کو ایوان میں بلانا سپیکر کا اختیار ہے، جبکہ سپیکر نے جواب دیا کہ اگر وزراء کی عدم موجودگی پر اجلاس نہیں چلنے دیا جائے گا تو اجلاس ملتوی کرنا پڑے گا۔ وزیر خزانہ نے بھی اجلاس ملتوی کرنے کی تجویز دی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل طلب
سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت ایوان کو سنجیدہ نہیں لیتی، وزراء ایوان میں آتے ہی نہیں اور عوامی مسائل کے جوابات دینے سے گریزاں ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “حکومت بھاگتی کیوں ہے؟ ابھی تو کچھ کیا بھی نہیں کیا
سابق وزیر اعظم انوار الحق اور دیگر اراکین نے بھی وزراء اور سیکرٹریز کی عدم موجودگی پر احتجاج کیا۔ انوار الحق کا کہنا تھا کہ کروڑوں روپے خرچ کر کے اجلاس بلایا جاتا ہے لیکن جواب دینے والا کوئی موجود نہیں۔ انہوں نے وزیر خزانہ کو دس منٹ کی مہلت دے کر متعلقہ نوٹیفکیشن ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس کے دوران ٹینڈرز کے اجرا، بغیر نوٹیفکیشن اقدامات، اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی شدید بحث ہوئی۔ وقار نور نے سوال اٹھایا کہ بغیر نوٹیفکیشن ٹینڈرز کیسے جاری ہوئے؟ قاسم مجید نے کہا کہ اگر احتساب بیورو ایکٹ لگتا ہے تو لگے گا، عوامی پیسے کا حساب دینا ہوگا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کارکنوں کا احتجاج ،کوہالہ انٹری پوائنٹ بند، ٹریفک بھی معطل
تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن کا معاملہ بھی ایوان میں زیر بحث آیا۔ میر اکبر نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی ہائی سکول کو براہ راست ڈگری کالج کا درجہ دیا جا سکتا ہے؟ سپیکر اسمبلی نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق ایسا ممکن نہیں۔ وزیر کالجز اور دیگر اراکین نے سابقہ ادوار میں کالجز کے قیام اور پالیسی معاملات پر ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ میر اکبر نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں ایک ہی دن میں گیارہ کالجز کے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے تھے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اضافہ، نیا نوٹیفیکیشن جاری
ریاستی اخبارات اور سوشل میڈیا کو دیے گئے فنڈز بھی بحث کا موضوع بنے۔ خواجہ فاروق نے کہا کہ ریاستی اخبارات کو چالیس فیصد بجٹ دیا گیا، اور اٹھارہ کروڑ روپے کے فنڈز کی تقسیم پر وضاحت طلب کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سوشل میڈیا کی مد میں کن افراد اور اداروں کو کتنی رقم دی گئی۔
مہاجرین مقیم پاکستان کے حقوق کے معاملے پر بھی ایوان میں احتجاج ہوا۔ جاوید بٹ نے کہا کہ مہاجرین کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوا اور فنڈز کی فراہمی میں ناانصافی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے فلور پر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے مہاجرین کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
اجلاس کے دوران سابق وزیر اعظم انوار الحق اور سابق وزیر خزانہ وقار نور کے درمیان ہلکی پھلکی مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا، دونوں اپوزیشن اراکین اپنی نشستیں چھوڑ کر حکمت عملی بنانے کے لیے پچھلی نشستوں پر بیٹھتے رہے۔
اجلاس میں حکومتی کارکردگی، ترقیاتی پالیسی، تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن، میڈیا فنڈنگ اور مہاجرین کے حقوق جیسے اہم معاملات پر شدید بحث ہوئی۔ بعض مواقع پر سپیکر اسمبلی کو بے بس دکھائی دیتے دیکھا گیا جبکہ اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ سپیکر حکومتی موقف کا دفاع کر رہے ہیں۔
ایوان کی کارروائی کے دوران ماحول مسلسل کشیدہ رہا اور متعدد بار اجلاس ملتوی کرنے کی تجاویز سامنے آئیں




