ڈائریکٹر سیاحت خالد محمود نے نوجوان پرجھوٹا مقدمہ درج کروادیا

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)نوجوان کاروباری شخصیت سجاد سلہریا نے کہا کہ محکمہ سیاحت کے ایک اعلیٰ افسر نے ان سے مبینہ طور پر بھتہ طلب کیا اور انکار پر ان کے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آر درج کروا دی گئی۔

سجاد سلہریا نے مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد کے سائلین ڈیسک پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر ٹورازم خالد محمود کی جانب سے انہیں مسلسل ہراساں کیا گیا اور بعد ازاں انکار کی پاداش میں ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا گیا۔

تقریباً ایک ماہ قبل شام کے وقت محکمہ ٹورازم سے وابستہ ایک ٹیم میرے پاس آئی اور مجھے کہا گیا کہ اگر وہ فلائنگ اور دیگر سیاحتی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں تو ہر فلائٹ کے ساتھ فی بندہ تین ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ متعلقہ افراد نے یہ بھی کہا کہ وہ محکمہ ٹورازم کے حوالے سے خود آئے ہیں اس لئے کسی قسم کی پرچی یا تحریری اجازت کی ضرورت نہیں تاہم ساتھ ہی انہیں یہ باور کرایا گیا کہ اگر وہ ان کی بنائی گئی پالیسی کے مطابق نہیں چلیں گے تو انہیں یہاں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی: فی تولہ سونا 9 ہزار روپے سستا

انہوں نے کہا کہ میں یہ کام خود سیکھ کر کر رہا ہوں اور چونکہ وہ اسی علاقے کے رہائشی ہیں، اس لیے کسی کو بھتہ دینا ان کیلئے قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پر انہیں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ اگر بھتہ دیا جائے گا تو ہی فلائنگ اور سیاحتی سرگرمیاں جاری رکھنے دی جائیں گی، بصورت دیگر انہیں مکمل طور پر کام سے روک دیا جائے گا۔

جب انہوں نے بھتہ دینے سے صاف انکار کیا تو اس کے فوراً بعد ان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروا دی گئی۔

سجاد سلہریا کا کہنا تھا کہ مذکورہ افسر نے اپنے من پسند افراد کے ذریعے ان کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت ویڈیوز تیار کروا کر سوشل میڈیا پر پھیلائیں اور باقاعدہ کردار کشی کی مہم چلائی گئی، جس سے ان کی ساکھ اور عزتِ نفس کو شدید نقصان پہنچا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایکشن کمیٹی میں بڑھتے اختلافات پر عمر نزیر کشمیری کا دوٹوک مؤقف

انہوں نے واضح کیا کہ جن افراد کے ذریعے یہ ویڈیوز بنائی گئیں، ان سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی ان کے ذریعے کسی قسم کی فلائنگ یا سیاحتی سرگرمی کروائی ہے۔

سجاد سلہریا نے کہا کہ وہ آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے لیے عملی طور پر کام کر رہے ہیں، تاہم اس قسم کے ہتھکنڈے نہ صرف نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ ریاست میں سیاحت کے مثبت تشخص کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

وزیر اعظم آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، وزیر ٹورازم اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کا فوری نوٹس لیا جائے۔۔

معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس واقعے کی بروقت اور منصفانہ تحقیقات نہ کی گئیں تو نہ صرف مقامی سطح پر سیاحتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی خطرے سے دوچار ہو جائیں گے۔

Scroll to Top