ہٹیاں بالا(کشمیر ڈیجیٹل)جہلم ویلی کے ملحقہ علاقے سینا میں مبینہ طور پر عطائی ڈاکٹر کی جانب سے غلط انجکشن لگانے کے باعث کئی روز تک سی ایم ایچ مظفرآباد میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے والا یتیم نوجوان زندگی کی بازی ہار گیا۔
آبائی علاقہ میں آہوں اور سسکیوں کے سائے میں منوں مٹی تلے سپرد خاک کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جہلم ویلی:عطائی ڈاکٹر کے غلط انجکشن سے 14سال کی بچی زندگی کی بازی ہار گئی
واقعہ کے سامنے آنے اور نوجوان کی ہلاکت کے باوجود محکمہ صحت،انتظامیہ اور جہلم ویلی پولیس نے عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کے بجائے خاموش تماشائی بن کر غریب عوام کی زندگیاں عطائی ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سینا کا رہائشی محمد سدھیر ولد محمد شریف نوجوان معمولی درد/الرجی کے باعث عامر نامی میڈیکل اسٹور کے مالک کے پاس گیا تھا جس نے مبینہ طور پر اسے انجکشن لگا دیا، انجکشن اسے ا نفیکشن ہو گیا اور حالت بگڑ گئی ورثاء نے اسے سی ایم ایچ مظفرآباد پہنچایا۔
سدھیر کئی روز تک زندگی،موت کی کشمکش میں وینٹی لیٹر پر رہا اور جمعہ کے روز زندگی کی بازی ہار گیا،چند ہفتے قبل بھی سینا دامن میں عطائی ڈاکٹروں کی ادویات استعمال کرنے کے باعث سیکڑوں افراد یرقان میں مبتلا ہو گئے تھےجس کی باضابطہ تصدیق محکمہ صحت نے کی تب محکمہ صحت کی جانب سے عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کی گئی کارروائی بھی فوٹو سیشن ثابت ہوئی۔
سینا دامن میں عطائیوں کیخلاف محکمہ صحت کی کارروائی کے چند دن بعد ہی پھر عطائی ڈاکٹروں نے عوام کی جانوں سے کھیلنا شروع کر دیا تھا،مبینہ طور پر غلط انجکشن سے جاں بحق ہونے والا نوجوان یتیم ہے۔
اس کے بھائی شدید دباؤ کے باعث مکمل طور پر خاموش ہیں،اس واقعہ کے سامنے آنے اور نوجوان کے جاں بحق ہونے کے بعد بھی محکمہ صحت،انتظامیہ اور پولیس نے عطائی ڈاکٹر کے خلاف کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی صحت سے کھیلنے والوں کیخلاف کریک ڈائون،میرپور میں دو میڈیکل سٹورز سیل
مبینہ اطلاعات ہیں کہ عطائی ڈاکٹر عامر نے ایک لڑکا نعمان عرف نومی رکھا ہوا ہے جس کی تعلیمی قابلیت پرائمری ہے وہ مبینہ طور پر سادہ لوح لوگوں کو ادویات دیتاہے،عوام علاقہ نے وزیر اعظم،وزیر صحت،چیف سیکرٹری،سیکرٹری صحت سے فوری واقعہ کا نوٹس،اعلی سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔




