بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی سب سے آگے، 77 نشستوں کی برتری

ڈھاکہ(کشمیر ڈیجیٹل)بنگلادیش میں 13 ویں قومی اسمبلی انتخابات اور ریفرنڈم 2026 کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد تمام 299 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے ابتدائی طور پر 77 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی اب تک 26 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ اب تک کے نتائج کے مطابق نیشنل سیٹیز پارٹی (این سی پی) 2 نشستیں حاصل کر سکی ہے۔

ابتدائی نتائج میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کی کارکردگی کے بارے میں ابھی مکمل معلومات سامنے نہیں آئیں اور مزید حتمی نتائج آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

انتخابات کے دوران ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور عمل عام طور پر پرامن رہا۔

بنگلہ دیش میں 13ویں عام انتخابات اور جولائی نیشنل چارٹر سے منسلک آئینی اصلاحات پر قومی ریفرنڈم کیلئے ملک بھر میں ووٹنگ کا وقت ختم ہوگیا اور اب گنتی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔

<blockquote class=”twitter-tweet”><p lang=”en” dir=”ltr”>Vote counting is under way in Bangladesh after polls closed, with officials reporting turnout just under 48% across more than 36,000 polling centres.<br><br>Al Jazeera’s Tanvir Chowdhury reports from Dhaka. <a href=”https://t.co/GU1nxqkJhA”>pic.twitter.com/GU1nxqkJhA</a></p>&mdash; Al Jazeera English (@AJEnglish) <a href=”https://twitter.com/AJEnglish/status/2021950169839702119?ref_src=twsrc%5Etfw”>February 12, 2026</a></blockquote> <script async src=”https://platform.twitter.com/widgets.js” charset=”utf-8″></script>

ووٹنگ کا آغاز جمعرات کو صبح 7:30 بجے ہوا۔ دن کے آغاز میں کچھ
دارالحکومت ڈھاکہ کے کئی پولنگ مراکز پر ووٹنگ کا عمل زیادہ تر پُرامن دیکھا جارہا ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق ملک بھر کے 36,000 سے زائد پولنگ مراکز میں تقریباً 48 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔۔

شیرپور-3 کی نشست پر ایک امیدوار کے انتقال کے باعث ووٹنگ منسوخ ہونے کے بعد 300 میں سے 299 حلقوں میں رائے دہی ہو رہی ہے۔

تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ اہل ووٹرز آج بنگلہ دیش میں ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ان عام انتخابات کو اگست 2024 میں طلبہ عوامی تحریک کے نتیجے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کی جمہوریت کی بحالی کا ایک اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ کا عمران خان کو ڈاکٹر تک رسائی،بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

بنگلہ دیش عام انتخابات 2026 میں مقابلہ براہِ راست بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں انتخابی اتحاد اور جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم 11 جماعتوں کے اتحاد کے درمیان ہے۔

جماعت اسلامی کے اتحادیوں میں نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) بھی شامل ہے، جسے ان نوجوان کارکنوں نے تشکیل دیا تھا جنہوں نے شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

 

سابق امریکی رکن کانگریس اور انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ (IRI) کے انتخابی مبصر مشن کے سربراہ ڈیوڈ ڈریئر نے بنگلہ دیش کے قومی انتخابات کو ’آزاد، منصفانہ اور پُرجوش‘ قرار دیتے ہوئے ملک کے جمہوری عمل پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کو گلشن کے منارات انٹرنیشنل اسکول اینڈ کالج کے پولنگ اسٹیشنز کے دورے کے بعد ڈھاکہ ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے ڈریئر نے کہا کہ انہوں نے ووٹنگ کا منظم ماحول اور عوام میں بھرپور جوش و خروش دیکھا۔

انہوں نے کہا ’آج اس شاندار ملک کی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور پُرجوش دن ہے۔ یہ میرا بنگلہ دیش کا پہلا دورہ ہے اور میں یہاں لوگوں میں جوش، خوشی اور تہوار جیسا ماحول واضح طور پر محسوس کر رہا ہوں۔‘

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ انتخابی عمل ملک میں جمہوری روایات کو مزید مضبوط کرے گا۔

صبح کے اوقات میں خواتین ووٹرز کی حاضری نسبتاً کم رہی، تاہم ڈھاکہ 5، ڈھاکہ 6، ڈھاکہ 8، ڈھاکہ 9 اور ڈھاکہ 11 کے حلقوں میں دوپہر کے بعد خواتین کی شرکت میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا۔

Scroll to Top