کم عمری کی شادی کیخلاف نیا آرڈیننس نافذ،گورنرپنجاب نے منظوری دیدی

لاہور(کشمیرڈیجیٹل) کم عمری کی شادی کیخلاف نیا آرڈیننس نافذ کردیا گیا۔گورنر پنجاب نے چائلڈ میرج آرڈیننس 2026 کی منظوری دیدی۔

آرڈیننس کے مطابق پنجاب میں اب 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر مکمل پابندی عائد ہوگی،نکاح کے وقت دولہا اور دلہن کی عمر 18 سال ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی، سلیمان صفدر کی رپورٹ میں انکشاف

کم عمری کی شادی قابلِ سزا جرم ہوگی، کریمنل ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائیگی،کم عمری کا نکاح پڑھانے والےکو ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

کم عمر بچے یا بچی سے شادی کرنے والے شخص کو 3 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ ہوگا، پنجاب میں 18 سال سے کم عمر کی شادی پر سزا 7 سال قید مقرر کی گئی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فوڈ اتھارٹی کا بڑا ایکشن: آزاد کشمیر کے داخلی راستوں پر ناکہ بندی، بھاری مقدار میں غیر معیاری اشیاء ضبط

بچوں کو دوسرے صوبے لے جا کر شادی کروانے پر بھی 7 سال قید اور 10 لاکھ جرمانہ ہوگا،کم عمری کی شادی کی کوشش کرنے والے سرپرست کو 2 سال قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔

چائلڈ میرج روکنے کیلئےانتظامیہ کو خصوصی اور وسیع اختیارات تفویض کئے گئے ہیں ،نکاح رجسٹرار اور والدین بھی قانون کی زد میں آئیں گے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: پولنگ اسٹیشن پر دستی بم حملہ، انتخابات سے قبل سیاسی گہما گہمی

حکومتِ پنجاب نے 1929 کے قدیم چائلڈ میرج ایکٹ میں ترمیم کر دی،آرڈیننس کی حتمی منظوری پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں لی جائے گی۔

Scroll to Top