چیف الیکشن کمشنر آزادکشمیرکی عدم تعیناتی،ایڈووکیٹ جنرل سے تحریری جواب طلب

مظفرآباد:چیف الیکشن کمشنر آزادکشمیرکی عدم تعیناتی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر ہائیکورٹ آزادکشمیر میں اہم سماعت ہوئی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدالت کو مطمئن نہ کرسکے جس پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے تحریری جواب طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز عدالت العالیہ میں توہین عدالت عنوانی راجہ ذوالقرنین عابد ایڈووکیٹ وغیرہ بنام وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف ، آزا حکومت وغیرہ کی سماعت ہوئی۔

عدالت العالیہ کے معزز جسٹس اعجاز نے ابتدائی سماعت کے دوران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل آزاد کشمیر سے فیصلہ محررہ23ستمبر2025 جس میں چیف الیکشن اور ممبر کی تعیناتی کا حکم ہوا تھا کی نسبت وضاحت طلب کی

دوران سماعت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدالت کو مطمئن نہ کر سکے جس پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کردیا کہ اس نسبت تحریری جواب مورخہ 12فروری 2026کو طلب کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: چیف الیکشن کمشنر آزادکشمیر کیلئے جسٹس(ر) مصطفی مغل کا نام فائنل

درخواست گزار کی جانب سے پیروی راجہ فیاض خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے کی۔

یاد رہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی عدم تعیناتی پر ہائیکورٹ آزادکشمیر میں توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی ہے دوسری طرف آزادکشمیر حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کیلئے 3ناموں کا پینل وزیراعظم میاں شہبازشریف کو ارسال کردیا ہے۔

آزادکشمیر حکومت کی جانب سے بھیجے گئے ناموں میں جسٹس (ر) خواجہ نسیم ،جسٹس (ر) مصطفیٰ مغل اور جسٹس (ر) سردار حمید خان کے نام شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیف الیکشن کمشنر آزادکشمیر کی تعیناتی،3رکنی پینل وزیراعظم شہبازشریف کو ارسال

گزشتہ دنوں ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کیلئے جسٹس (ر) مصطفی مغل کا نام فائنل کرلیا گیا ہے لیکن وزیراعظم شہبازشریف کی طرف سے ابھی تک منظوری نہیں دی گئی۔

Scroll to Top