بنگلادیش میں عام انتخابات جمعرات کو ہوں گے،بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ

بنگلادیش میں عام انتخابات جمعرات کو ہوں گے جس کے لیے ملک بھر میں فوج کو تعینات کردیا گیا ہے۔

ڈھاکا سمیت بنگلادیش کے چھوٹے بڑے شہروں میں انتخابی مہم کا کل آخری روز تھا۔ عام انتخابات کے لیے ملک بھر میں فوج کو تعینات کردیا گیا، رات 12 بجے سے 3 روز کے لیے موٹر سائیکل چلانے پر ملک گیر پابندی عائد کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش ،جماعت اسلامی کی ریلی پر بی این پی کا دھاوا،50زخمی

300 پارلیمانی نشستوں کے لیے بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی، بنگلا دیش کی جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی کے ایک ہزار 981 امیدوار میدان میں ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازم ہے۔

اگست 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے استعفیٰ دینے اور ملک چھوڑنے کے بعد یہ پہلے انتخابات ہیں۔نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی تھِیں۔

یاد رہے کہ بنگلادیش میں قومی پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے کیے گئے ایک تازہ عوامی سروے میں بی این پی اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والے اتحاد کے درمیان سخت مقابلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

سروے کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے جبکہ بنگلادیش جماعتِ اسلامی کے زیر قیادت 11 سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔

یہ سروے ملک بھر کے 63 ہزار 115 ووٹرز میں کیا گیا جن میں 36 ہزار 634 مرد جبکہ 26 ہزار 981 خواتین شامل تھیں۔

سروے کے مطابق 92 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ اپنا ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ 4.4 فیصد نے کہا کہ وہ ووٹ نہیں دیں گے اور 2.5 فیصد نے بتایا کہ وہ ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش میں کون وزیراعظم بننے جا رہا ہے؟ حیران کن سروے نتائج جاری

اگرچہ مجموعی ووٹوں کے تناسب میں بی این پی اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے تاہم سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن حلقوں میں نتیجہ تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے وہاں بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد آگے ہے۔

سروے کے مطابق بنگلادیش جماعت اسلامی کے زیر قیادت اتحاد کو 105 حلقوں میں واضح کامیابی مل سکتی ہے جبکہ بی این پی اتحاد کو 101 نشستوں پر یقینی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ 75 حلقوں میں دونوں بڑے اتحادوں کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے جبکہ 19 حلقوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

Scroll to Top