فیصلہ

پاکستان کی کوششیں کامیاب، بنگلا دیش کو کیا کچھ ملے گا؟آئی سی سی نے بتا دیا

پاکستان کی بنگلادیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے کی گئی کوششیں رنگ لے آئیں۔ آئی سی سی نے اعلان کیا ہے کہ ایونٹ میں شرکت نہ کرنے پر بنگلا دیش کرکٹ بورڈ پر کوئی جرمانہ نہیں ہوگا اور اسے مستقبل میں آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی بھی دی جائے گی۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ساتھ مذاکرات کی باضابطہ تفصیلات جاری کردی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈکپ:شاہینوں کو بھارت کیخلاف میدان میں اترنے کی اجازت مل گئی

آئی سی سی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مذاکرات کے دوران متعدد اہم امور زیرِ غور آئے، جن میں بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کی آئی سی سی مینز ٹی 20ورلڈ کپ میں عدم شرکت کا معاملہ بھی شامل تھا۔

آئی سی سی نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کو باوقار فل ممبر ملک قرار دیتے ہوئے اس کی کرکٹ کی شاندار تاریخ اور عالمی سطح پر کھیل کی ترقی میں اس کے اہم کردار کا اعادہ کیا۔

آئی سی سی نے واضح کیا کہ وہ بنگلا دیش میں کرکٹ کے فروغ کے لیے اپنی معاونت جاری رکھے گا۔

آئی سی سی کے مطابق ٹی 20ورلڈ کپ میں بنگلادیشی ٹیم کی عدم شرکت کے ملکی کرکٹ پر منفی اثرات مرتب نہیں ہونے دئیے جائیں گے۔

آئی سی سی نے اعلان کیا ہے کہ مذاکرات کی شرائط کے مطابق بنگلا دیش کرکٹ بورڈ پر کسی بھی قسم کی پابندی یا جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔

ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ بی سی بی کو آئی سی سی کے موجودہ ضوابط کے تحت ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی سے رجوع کرنے کا حق حاصل رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا سری لنکن صدر کی درخواست پر بھارت کیخلاف ٹی 20 میچ کھیلنے کا فیصلہ

مذاکرات میں یہ بھی طے پایا ہے کہ بنگلا دیش 2028 سے 2031 کے درمیان آئی سی سی کے ایک ایونٹ کی میزبانی کرے گا، جو آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2031 سے قبل منعقد ہوگاتاہم اس کی میزبانی آئی سی سی کے طے شدہ طریقہ کار، ٹائم لائنز اور آپریشنل تقاضوں سے مشروط ہوگی۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو سنجوج گپتا نے کہا کہ بنگلا دیش کے ٹی 20ورلڈ کپ میں شامل نہ ہونے پر افسوس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی بی سی بی سمیت اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے پر توجہ مرکوز ہے، بنگلا دیش کی کرکٹ کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

Scroll to Top