سہنسہ(کشمیر ڈیجیٹل) آزادکشمیر سے مسلم کانفرنس کے کارکن، معروف سیاسی رہنما اور سابق ٹکٹ ہولڈر راجا افتخاراحمد نے مسلم کانفرنس چھوڑنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
ان کے اس فیصلے کو مسلم کانفرنس کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے
گزشتہ عام انتخابات میں راجہ افتخار احمد نے مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیار کی تھی اور الیکشن لڑا تھا
جسکے باعث راجہ نصیر ہار گئے تھے اور چوہدری اخلاق پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے کامیابی سمیٹ کر اسمبلی ممبر منتخب ہوئے تھے
مزید یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا ایوارڈز اسکالرشپ 2027 پاکستانی پیشہ ور افراد کے لیے سنہری موقع
اسی سلسلہ میں ذرائع کے مطابق حال ہی میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے اہم رہنما اور سابق وزیر حکومت راجہ نصیر کی وفات کے بعد حلقہ سہنسہ میں مسلم لیگ (ن) کو ایک مضبوط اور قابلِ قبول امیدوار کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
اسی تناظر میں ذرائع کا دعویٰ ہے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے راجہ افتخار احمد کو یہ عندیہ دیا گیا کہ وہ مسلم کانفرنس سے علیحدگی اختیار کریں
جس کے بعد انہیں جلد مسلم لیگ (ن) میں باضابطہ طور پر شامل کر کے آئندہ انتخابات میں میدان میں اتارا جائے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت کیساتھ ٹی 20 میچز،محسن نقوی کاوزیراعظم سے دوبارہ ملاقات کا فیصلہ
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ حلقہ سہنسہ سے مسلم لیگ (ن) کے دو درجن سے زائد امیدواروں نے انتخابی ٹکٹ کے لیے درخواستیں جمع کروا رکھی ہیں
، تاہم ان میں سے کسی کے پاس بھی وہ مضبوط ووٹ بینک موجود نہیں جو راجا افتخار احمد رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ عام انتخابات میں راجہ افتخار احمد نے مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑتے ہوئے 7 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے جو ان کی سیاسی قوت اور عوامی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔
راجہ افتخار احمد کی مسلم کانفرنس سے علیحدگی نہ صرف جماعت کے لیے بڑا نقصان سمجھی جا رہی ہے بلکہ حلقہ سہنسہ کی انتخابی سیاست میں بھی ایک نیا موڑ قرار دی جا رہی ہے۔
اگر راجہ افتخار احمد کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت عمل میں آتی ہے تو حلقہ سہنسہ میں آئندہ انتخابات انتہائی دلچسپ اور فیصلہ کن ہو سکتے ہیں




