مظفرآباد :رمضان المبارک کی آمد سے قبل مظفرآباد میں اشیائے خوردنوش کی قیمتوں کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر مظفرآباد حماد بشیر نے نان بائی، ڈیری اور قصاب ایسوسی ایشن کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے لیے دی گئی تمام درخواستوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق مقدس مہینے میں عوام، بالخصوص غریب طبقے پر اضافی بوجھ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور قیمتوں میں اضافے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔
اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک صبر، ہمدردی اور سہولت کا مہینہ ہے، اس لیے عوام کو ریلیف فراہم کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق سرکاری نرخ نامے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تاہم دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں سے سامنے آنے والی زمینی صورتحال انتظامیہ کے ان دعوؤں سے مختلف نظر آتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بازاروں میں مصنوعی مہنگائی عروج پر ہے جبکہ انتظامیہ عملی طور پر کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ عوام کے مطابق سرکاری نرخ نامہ صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان سے قبل مہنگائی کا طوفان،محکمہ شماریات کی اہم رپورٹ جاری
رواں برس آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، گوشت اور پھل عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے نہ صرف غریب بلکہ متوسط طبقے کے لیے بھی دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل بنا دیا ہے۔ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں بھی قیمتوں میں کمی کے بجائے اضافہ عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے آزاد کشمیر کے ہر ضلع میں قائم پرائس کنٹرول کمیٹیوں، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز کی مجموعی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں کے مطابق شکایات کے باوجود موثر اور مستقل کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ بعض مقامات پر اگر چھاپے مارے بھی جاتے ہیں تو وہ محض نمائشی ثابت ہوتے ہیں اور کچھ ہی دیر بعد حالات دوبارہ جوں کے توں ہو جاتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے عوام نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ سفید پوش اور متوسط طبقہ اس مشکل معاشی دور میں اپنے اہل خانہ کی بنیادی ضروریات پوری کر سکے۔




