بنگلادیش میں جماعت اسلامی اور بنگلا دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے حامیوں کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں 50 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے 25 افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش میں کون وزیراعظم بننے جا رہا ہے؟ حیران کن سروے نتائج جاری
تشدد اس وقت شروع ہوا جب جماعت اسلامی کے امیدوار شفیق الاسلام کی انتخابی ریلی پر بی این پی کے کارکنوں نے حملہ کردیا۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق 40 سے 50 افراد نے مسلح ہو کر ریلی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
ابتدائی جھڑپ میں کم از کم 40 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ بعد ازاں دونوں فریقین کے درمیان جوابی حملوں اور تعاقب سے مزید تشدد ہوا، جس سے مزید کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے۔زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر جماعت کے حامی اور مقامی جماعتی رہنما شامل تھے۔
دوسری جانب بی این پی سے منسلک رہنماؤں نے الزامات کی تردید کی اور کہاکہ ان کے حامیوں نے حملہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان 14 سال بعد فضائی رابطے بحال
جماعتی رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے حریف ووٹروں کو دھمکانے اور منصفانہ انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
پولیس نے ان واقعات کی تصدیق کی اور کہاکہ امن و امان قائم رکھنے کے لیے اضافی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، کیونکہ کچھ روز بعد بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔




