اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور پیپلز پارٹی حکومت کیلئے پارلیمانی زمین تیزی سے کمزور پڑ رہی ہے۔
قانون ساز اسمبلی میں موجود تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف، پی ٹی آئی فارورڈ بلاک، اور جموں کشمیر پیپلز پارٹی غیر معمولی طور پر ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو گئی ہیں، جس نے حکومت کیلئے براہِ راست ایک طاقتور سیاسی چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
زرائع کے مطابق اپوزیشن بینچ پر مسلم کانفرنس سے تعلق رکھنے والے اکلوتے ممبر اسمبلی اپوزیشن اتحاد کی میٹنگز میں نظر نہیں آئے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کے 22 ارکان نے مظفرآباد میں طویل مشاورت کے بعد نہ صرف مشترکہ حکمت عملی طے کر لی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:رائزنگ پاکستان موومنٹ کے زیراہتمام یوم یکجہتی کشمیر فکری نشست منعقد
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی حکومت کو دو ٹوک وارننگ جاری کر دی ہے کہ اگر ترقیاتی فنڈز کی بندر بانٹ، من پسند تبادلوں و تقرریوں، اور سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال پر فوری روک نہ لگائی گئی تو حکومت کو ایوان کے اندر اور باہر کام سے روک دیا جائے گا اور حکومت کو عوامی سطح پر بے نقاب بھی کیا جائے گا۔
زرائع کے مطابق اجلاس میں شریک 14 اپوزیشن اراکین نے وزیراعظم کے سامنے سخت تحفظات رکھتے ہوئے واضح کیا کہ سکیل چھ تک کی آسامیاں پیپلز پارٹی کیلئے مختص کرنا، اسکیمیں صرف حکومتی ممبران کو دینا اور انتظامی اختیارات کو سیاسی دباؤ کے تحت استعمال کرنا وزیرِاعظم ہاؤس کا کھلا جانبدارانہ طرزِ حکمرانی ہے۔
اپوزیشن کے ساتھ میٹنگ میں وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کھلا اعتراف کیا کہ پارٹی پریشر کے باعث سکیل چھ تک کہ آسامیاں پیپلز پارٹی اُمیدواروں میں تقسیم کرنے سمیت بعض فیصلے پارٹی ہائی کمان کی ڈائریکشن کے تحت “لازمی” ہیں، جس پر اپوزیشن نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے حکومتی نااہلی” قرار دے دیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی سانحہ چیلنج ،داعش کاپورا نیٹ ورک پکڑا گیا،وزیرداخلہ محسن نقوی
اپوزیشن اتحاد کے اہم اجلاس میں سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے واضح اعلان کیا کہ ’’پانچواں وزیراعظم بھی آسکتا ہے‘‘ کیونکہ عددی اعتبار سے حکومت اور اپوزیشن تقریباً برابر ہو چکے ہیں اور پیپلز پارٹی حکومت اب محض بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے پیپلز پارٹی کے نامزد صدارتی امیدوار کو بھی مکمل طور پر رد کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کو تین سے چار دن کی ڈیڈلائن دی ہے کہ وہ اپنی قیادت سے مشورہ کر کے صدارتی انتخاب کیلئے متحدہ اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار سامنے لائے۔
ذرائع کے مطابق متحدہ اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے رویہ نہ بدلہ تو بھرپور سیاسی تحریک شروع کی جائے گی، پریس کانفرنسز اور عوامی اجتماعات کے ذریعے حکمران جماعت کی مبینہ بے ضابطگیوں کو عوام کے سامنے لایا جائے گا۔ ریکوزیشن بھی اسپیکر کو جمع کرائی جا چکی ہے اور آئندہ اجلاس کے لیے ایجنڈا مکمل طور پر تیار ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:میٹرک و انٹرمیڈیٹ امتحانات:امیدواروں کیلئے بائیو میٹرک تصدیق لازم قرار
ذرائع کے مطابق اجلاس میں لیڈر آف دی اپوزیشن شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر، سردار عبدالقیوم نیازی، خواجہ فاروق احمد، چوہدری انوارالحق، سردار حسن ابراہیم سمیت تمام اہم رہنما شریک تھے جبکہ سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ۔
ذرائع کے مطابق صورتحال پیپلز پارٹی حکومت کیلئے اُس وقت مزید خطرناک ہو گئی جب حکومتی اتحاد میں موجود شدید دراڑیں کھل کر سامنے آگئیں۔
بیرسٹر سلطان محمود گروپ کے 8 اراکین اور مہاجرین مقیم پاکستان کے 3 اراکین پہلے ہی اپنا علیحدہ اجلاس کر کے پیپلز پارٹی قیادت اور حکومت کو یہ دو ٹوک پیغام دے چکے ہیں کہ اب اس حکومت پر کوئی اعتماد باقی نہیں رہا اور سیاسی طور پر ساتھ چلنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے اس لیے صدارتی امیدوار بیرسٹر سلطان محمود گروپ سے ہو گا۔




