امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تصدیق کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے آئندہ مرحلے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات مثبت رہے ہیں اور اس عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور اسی تسلسل میں اگلے ہفتے دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کو ہونے والے مذاکرات کے نتائج اچھے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس بار عمل کے لیے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیار دکھائی دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ڈیڑھ سال پہلے کے مقابلے میں ایران کی سنجیدگی میں نمایاں فرق نظر آ رہا ہے، جسے وہ مذاکراتی عمل کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے اوباما اور انکی اہلیہ کی نامناسب تصویر شیئر کردی، امریکا میں ہنگامہ

ایک موقع پر صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری ہتھیار نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کے مطابق امریکا کی خواہش ہے کہ معاملات بات چیت کے ذریعے آگے بڑھیں اور اسی مقصد کے تحت مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات عُمان کے دارالحکومت مسقط میں جمعے کے روز ہوئے تھے، جہاں دونوں ممالک کے نمائندوں نے براہِ راست بات چیت کی۔ اس ملاقات کو حالیہ عرصے میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگلے مرحلے سے قبل دونوں ممالک کے اہلکار اپنے اپنے دارالحکومتوں میں مشاورت کریں گے تاکہ آئندہ مذاکرات کے لیے لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔

امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران یورینئیم کی افزودگی مکمل طور پر روکے اور بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار کو محدود کرے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں اور دونوں فریقین کی جانب سے مذاکرات کی حساس نوعیت کے باعث محتاط بیانات دیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ اور شی جن پنگ کا رابطہ،امریکی صدر نے بات چیت کو شاندار قرار دے دیا

ان مذاکرات کو خطے اور عالمی سطح پر اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے تعلقات کا دارومدار اسی سفارتی عمل پر ہوگا۔

Scroll to Top