اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)ترلائی کے علاقے میں واقع امام بارگاہ کے اندر خودکش دھماکے کی ابتدائی تحقیقات سیکیورٹی اداروں نے مکمل کرلی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ترلائی کی مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید ہو چکے ہیں اور متعدد نمازی زخمی ہیں –
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد حاصل کرلئے۔ابتدائی تحقیقات رپورٹ وزیر داخلہ محسن نقوی کو پیش کی جائے گی
مزید یہ بھی پڑھیں:ترلائی سانحہ : 25 ایمرجنسی ایمبولینسز روانہ، تمام ہسپتال ہائی الرٹ پر: مریم نواز
دھماکا کس وقت ہوا اور لوگوں کی تعداد کتنی تھی، تمام معلومات رپورٹ میں شامل ہے۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق خود کُش بمبار نے افغانستان سے دہشت گردانہ کاروائیوں کی تربیت حاصل کی۔
خودکش بمبار متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے اور کچھ عرصہ پہلے افغانستان سے آیا تھا۔
افغانستان میں موجود مختلف دہشگرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔
پاکستان میں ہر دہشتگردانہ کاروائی کے پس پشت افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فٹنس مسائل،آسٹریلیا کے فاسٹ بولر جوش ہیزل ووڈ ورلڈ کپ سے باہر
پوری قوم ایسی مذموم اور بزدلانہ کاروائیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔
مساجد اور معصوم شہریوں پر اس طرح کے بزدلانہ حملے پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
ابتدائی تحقیقات رپورٹ وزیر داخلہ محسن نقوی کو پیش کی جائے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ امام بارگاہ نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے میں اب تک 31 افراد جاں بحق اور 169 زخمی ہوگئے۔
رپورٹ میں زخمیوں اور جاں بحق افراد کی تعداد بھی شامل ہے، ابتدائی شواہد کی بنیاد پر دھماکا خودکش لگتا ہے۔




