سینیٹ نے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد وفاقی وزیر برائے امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے پیش کی۔
قرارداد کے متن کے مطابق ایوان بھارت کے غیر قانونی قبضے کی مذمت کرتا ہے، کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے اور ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عیدالفطر پر نئے کرنسی نوٹ دستیاب نہیں ہونگے، گورنرسٹیٹ بینک کی وضاحت
نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں کا معاملہ
ایوان میں پاکستان میں نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے اضافی فیسوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سینیٹر روبینہ قائم خانی نے کہا کہ نجی میڈیکل کالجز معیارات پر پورا نہیں اترے اور 25 سے 30 لاکھ روپے فیس وصول کر رہے ہیں جبکہ آغا خان میڈیکل کالج لگ بھگ ایک کروڑ روپے فیس لے رہا ہے۔
سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ہر میڈیکل کالج بچوں کو لوٹ رہا ہے۔ وزیر مملکت صحت نے بتایا کہ پاکستان میں نجی میڈیکل کالجز کی فیس کا بینچ مارک 18 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ بعد ازاں پریزائیڈنگ افسر نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ترلائی مسجد میں خود کش دھماکہ، 31 افراد شہید ، سکیورٹی سخت
ایوان میں قواعد ضابطہ کار و انصرام کارروائی سینیٹ 2012 کے قاعدہ 166 کے ذیلی قاعدہ 5 میں مجوزہ ترمیم کی قرارداد پیش کی گئی۔ یہ قرارداد سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر سلیم مانڈی والا، سینیٹر انوشہ رحمان، سینیٹر پلوشہ اور دیگر کی جانب سے پیش کی گئی۔
اس موقع پر حکومت نے ترمیم کی مخالفت کی جب کہ رانا ثناء اللہ نے بل پر کارروائی روکنے اور ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ پریزائیڈنگ افسر سلیم مانڈی والا نے کہا کہ بل پہلے ہی مہینوں سے تاخیر کا شکار ہے۔ بعد ازاں انہوں نے بل پر رائے شماری کرائی اور ایوان نے اکثریتی رائے سے بل منظور کر لیا۔




