امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم عالمی اور دو طرفہ امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ امریکی صدر نے اس رابطے کو مثبت قرار دیتے ہوئے بات چیت کو شاندار کہا ہے۔
ٹیلی فونک رابطے کے بعد جاری کیے گئے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تجارت، فوجی امور، تائیوان، روس اور یوکرین کے تنازع اور ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ امریکی صدر کے مطابق گفتگو میں مختلف حساس عالمی معاملات زیر بحث آئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس رابطے کے دوران چین کی جانب سے امریکا سے تیل اور گیس کی خریداری، اضافی زرعی مصنوعات، طیاروں کے انجنوں کی ترسیل سمیت دیگر موضوعات پر بھی بات چیت کی گئی۔ ان امور کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے تناظر میں زیر غور لایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ،ایران کے مذاکرات میں آغاز سے قبل ہی ڈیڈلاک آگیا، ٹرمپ کا خامنہ ای کو انتباہ
دوسری جانب چینی میڈیا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی ہم منصب سے گفتگو کے دوران امریکا چین تعلقات میں تائیوان کے مسئلے کو انتہائی اہم قرار دیا۔ چینی صدر نے تائیوان کے ساتھ اسلحے کے معاہدے کے معاملے پر امریکا کو انتہائی احتیاط سے کام لینے کا کہا۔
اسی دوران چینی اور روسی صدور کے درمیان بھی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔ کریملن کے مطابق چینی صدر اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران، یوکرین اور دیگر اہم عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران کو مڈنائٹ ہیمر جیسے آپریشن کی دھمکی دیدی
کریملن کے بیان کے مطابق روسی صدر پیوٹن نے دورۂ چین کی دعوت قبول کر لی، جسے دونوں ممالک کے درمیان روابط کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔




