آزادکشمیر:محکمہ جنگلات، وائلڈ لائف کی غفلت، ایک اور چیتا ہلاک

آزادکشمیر کے ضلع فارورڈ کہوٹہ میں ایک اور چینا محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کے حکام کی غفلت کے باعث ایک اور چیتا ہلاک ہو گیا ہے۔

جنگلات کی بے لگام کٹائی اور لکڑی مافیا کی بے قابو حکمرانی نے جنگلی حیات کے تحفظ کو عملاً ختم کر دیا ہے۔ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ اور وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ محض نام کے رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:محکمہ وائلڈ لائف حکومت خیبر پختونخواہ کی بڑی ناکامی،دنیا میں ناپیدبرفانی چیتا دیر کی پہاڑیوں میں ہلاک

جنگلی جانور اپنی جان بچانے کے لیے نئے مسکن کی تلاش میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں، لیکن اس سفر کے دوران اکثر وہ موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کبھی انہیں مار دیا جاتا ہے اور کبھی حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بدھ کے روز نالہ بیٹر سے ایک چیتے کی لاش برآمد ہوئی۔ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے اہلکار لاش کو لے گئے، جس کے بعد پوسٹ مارٹم کیا گیا اور موت کی وجہ دل کا دورہ قرار دی گئی۔

یہ کسی جانور کا دل فیل ہونا نہیں، بلکہ حویلی کے محکموں کی ناکامی ہے۔ انہی محکموں کی غفلت اور نااہلی کے باعث تقریباً 12 سالہ چیتا اپنی جان گنوا بیٹھا ہے۔

یہ صرف ایک جانور کی موت نہیں، بلکہ ان اداروں کی ذمہ داری، فرض شناسی اور کارکردگی کی موت ہے، جن پر جنگلی حیات کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران مقامی لوگ گوشت حاصل کرنے کے لیے جمع ہو گئے اور چند ہی لمحوں میں جانور کا گوشت غائب ہو گیا۔ جنگل کا نام نہاد “بادشاہ” بے بسی اور لاچاری کی علامت بن کر رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد ، بسنت کوٹ سے مردہ حالت میں چیتا برآمد ، وائلڈ لائف ٹیمیں پہنچ گئیں

فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ جنگلات میں کیا ہو رہا ہے۔ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے پاس اتنے بنیادی وسائل بھی موجود نہیں کہ وہ جانوروں کو محفوظ طریقے سے قابو میں لے کر محفوظ مقامات پر منتقل کر سکے۔

نتیجتاً جنگلی حیات آہستہ آہستہ معدومی کی طرف جا رہی ہے، جو انسانی زندگی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر اور متعلقہ اداروں کووائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو مکمل سازوسامان، مناسب تربیت اور وہ تمام وسائل فراہم کرنا ہوں گے جس سے وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں ۔

وائلڈ لائف کے نام پر سرکاری خزانے سے بڑی رقوم تنخواہوں کی مد میں خرچ کی جا رہی ہیں، لیکن جب ان رقوم کا اصل مقصد ہی دفن ہو جائے تو یہ واضح طور پر عوامی وسائل کے ضیاع اور غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آزادکشمیر میں کئی چیتے ہلاک ہوچکے ہیں، پٹہکہ مظفرآبا دمیں چیتے کو گولی مارے جانے پر سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے ہائیکورٹ آزادکشمیر میں درخواست بھی دائر کرائی تھی۔

ہائیکورٹ آزادکشمیر نے چیتوں کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانے کا حکم دیا تھا لیکن آئے روز جنگلی جانور معدوم ہوتے جا ر ہے ہیں۔

Scroll to Top