اسلام آباد: پاکستان اور قازقستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے بدھ کو اہم تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور قازقستان کے صدر عزت مآب قاسم جومارت توکایووف نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے قازق صدر کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان دینے کا اعلان کیاجسے دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور دیرپا تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریب کے دوران دونوں ممالک نے متعدد شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں کان کنی، پیٹرولیم، میری ٹائم افیئرز، اقوام متحدہ کے امن دستوں میں تعاون، کسٹمز، قیدیوں کے تبادلے اور ٹرانزٹ ٹریڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں رہنماؤں نے مشترکہ اعلامیہ پر بھی دستخط کیے، جس میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے مہاجرین 1989کا گزارہ الائونس بڑھا کر5 ہزار کر دیا
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کا قابلِ اعتماد شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اعتماد، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں قازقستان کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کو اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینی چاہیے۔
صدر قازقستان کے سرکاری دورہ کے موقع پر وزیراعظم ہاؤس میں ان کا باضابطہ استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مہمان صدر کا پرتپاک خیر مقدم کیا، دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔
دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ اور وفد سطح کی ملاقاتیں ہوئیں، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط اور سیکیورٹی تعاون سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ تعلقات کو اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
یہ دورہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے سے متعلق حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اسلام آباد میں قازقستان کے وزیر تجارت و انضمام ارمان شقالیف سے ملاقات کی تھی، جس میں اقتصادی تعاون، رابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ریلوے، سڑک اور کثیر الجہتی رابطے پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ قازق فریق نے وسطی اور جنوبی ایشیا کو یورپ سے جوڑنے کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کا خاکہ پیش کیا، جن سے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں تقریباً 5 ارب ڈالر تک اضافہ متوقع ہے۔
دونوں ممالک نے زراعت، خوراک کی پروسیسنگ، فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل، کھیلوں کی اشیاء، چمڑے کی مصنوعات، کان کنی، معدنیات، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ قازقستان نے مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی جبکہ پاکستان نے سرمایہ کاری سہولت کے فریم ورک کے تحت قازق سرمایہ کاروں کو مواقع فراہم کرنے کی پیشکش کی۔
دونوں وزرا نے کاروبار سے کاروبار روابط کو فروغ دینے، تجارتی وفود کے تبادلے اور مشترکہ نمائشوں کے انعقاد سے دو طرفہ تجارتی شراکت داری کو عملی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے لیے ایک فریم ورک دستاویز تیار کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی۔
مزید پڑھیں: ایکس کے دفتر پر چھاپہ،ایلون مسک کوطلب کر لیا!
سیاسی اور معاشی مبصرین کے مطابق قازق صدر کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور قازقستان کے تعلقات کے لیے اہم سنگِ میل ہے بلکہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان علاقائی انضمام کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔




