آزاد کشمیر

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں کمی، سرمایہ کار فکر مند

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ جاری ہے اور آج ایک مرتبہ پھر بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 172 ڈالرز کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد سونا 4721 ڈالرز کی سطح پر پہنچ گیا۔

ٹریڈنگ کے دوران سونے کی قدر میں 3 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی، جو حالیہ دنوں میں ایک بڑی گراوٹ تصور کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی معاشی حالات، شرح سود سے متعلق خدشات اور سرمایہ کاروں کے بدلتے ہوئے رجحانات اس دباؤ کی بنیادی وجہ ہیں۔ سونا، جو طویل عرصے سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے، موجودہ حالات میں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار نظر آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمتوں میں تاریخی اتار چڑھاؤ: 42 ہزار کا اضافہ اور 61 ہزار کی کمی، وجہ سامنے آ گئی

عالمی منڈی میں اس کمی کے اثرات مختلف ممالک کی مقامی مارکیٹوں پر بھی مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب توانائی کی عالمی منڈی میں بھی مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ خام تیل 67 ڈالرز فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 63 ڈالرز فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کو عالمی طلب میں کمی اور معاشی غیر یقینی صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے۔

عالمی منڈی میں سونا اور خام تیل دونوں کی قیمتوں میں بیک وقت کمی نے مالیاتی منڈیوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ سرمایہ کار مستقبل کے رجحانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں سونے کے ذخائر کے حوالے سے امریکا پہلے نمبر پر ہے، جبکہ ایشیا میں یہ اعزاز چین کے پاس ہے۔ بھارت عالمی سطح پر آٹھویں اور ایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے، اور پاکستان عالمی فہرست میں 49 ویں نمبر پر ہے۔

مزید پڑھیں: سونے کی قیمت 25 ہزار 500 روپے فی تولہ گر گئی

رپورٹ کے مطابق امریکا، جرمنی اور اٹلی سونے کے ذخائر کے حوالے سے سرفہرست ہیں، جبکہ ایشیا میں چین اور بھارت سونے کے سب سے زیادہ ذخائر رکھتے ہیں۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں نے 2024ء میں 1,000 میٹرک ٹن سے زائد سونا خریدا، جو پچھلی دہائی کی اوسط سالانہ خریداری کے تقریباً دگنا کے برابر ہے۔

Scroll to Top