سونے کی قیمتوں میں تاریخی اتار چڑھاؤ: 42 ہزار کا اضافہ اور 61 ہزار کی کمی، وجہ سامنے آ گئی

ملک اور عالمی مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے سونے کی قیمتوں میں تاریخی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ بدھ اور جمعرات کو ملکی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں 42 ہزار روپے سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سرمایہ کاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ تاہم جمعہ اور ہفتہ کو قیمت میں اچانک 61 ہزار روپے فی تولہ کی بڑی کمی واقع ہوئی، جو ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اتار چڑھاؤ میں شمار کی جا رہی ہے۔

عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کے نرخ میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی۔ ہفتے کے روز فی اونس سونا 255 ڈالر سستا ہوا اور اس کی قیمت 4,895 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سونے کی قیمت پہلی بار 5,000 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر چکی تھی۔ سونے کے ساتھ ساتھ چاندی اور پلاٹینم کی قیمتوں میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: مہنگائی کا نیا جھٹکا، ڈیزل کےبعدمٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اضافہ

ماہرین اقتصادیات نے سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجوہات بیان کی ہیں۔ پہلی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیز کو قرار دیا گیا، جس کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھی اور انہوں نے محفوظ اثاثوں کی جانب، خاص طور پر سونے کی طرف سرمایہ کاری کی۔ دوسری وجہ عالمی سیاسی کشیدگی کو قرار دیا گیا، جبکہ تیسری بڑی وجہ مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سونے کی خریداری ہے۔

مزید پڑھیں: سونے کی قیمت 25 ہزار 500 روپے فی تولہ گر گئی

ماہرین کا کہنا ہے اگرچہ دو دن کے دوران سونے کی قیمت میں کمی واقع ہوئی، لیکن گزشتہ سال کے مقابلے میں سونا، چاندی اور پلاٹینم اب بھی بلند سطح پر ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار ہے۔

Scroll to Top