تہران (31 جنوری 2026)ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ترکی نے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیش کش کر دی ہے جبکہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ’’ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں‘‘۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے درمیان جمعہ کے روز ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور اس سے جڑے سیکیورٹی خدشات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے گفتگو کے دوران کہا کہ خلیج میں بھاری فوجی تعیناتیوں کے بعد امریکا کے ساتھ سفارت کاری کی کامیابی کا دار و مدار دھمکی آمیز رویے کے خاتمے پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے، چاہے وہ جنگ ہو یا مذاکرات۔
یہ بھی پڑھیں: ہر پاکستانی پر 3 لاکھ 33 ہزار قرض؟ فیکٹ چیک رپورٹ نے بھارتی دعویٰ جھوٹا ثابت کر دیا
ترک کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ترک۔ایران تعلقات کے ساتھ ساتھ حالیہ کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کا بھی جائزہ لیا۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر اردوان نے اس بات پر زور دیا کہ ترکی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دیگر مسائل کے حل میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
بیان کے مطابق، صدر اردوان کا مؤقف تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مکالمہ ناگزیر ہے، اور ترکی اس عمل میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
اس سے قبل گزشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال زیر بحث آئی۔ بعد ازاں پریس کانفرنس میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ایران کو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم ’’دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں ہو سکتے‘‘۔
دوسری جانب، ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے ماسکو کا غیر اعلانیہ دورہ کیا، جہاں انہوں نے روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں متعدددہشت گرد حملے ناکام، سیکیورٹی فورسز کا 12 مقامات پر مکمل کنٹرول
کریملن کے ترجمان کے مطابق، گفتگو میں خطے کی صورتحال اور روس و ایران کے درمیان اقتصادی تعلقات پر بات چیت ہوئی۔




