پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ایک اور گمراہ کن مہم بے نقاب ہو گئی ہے۔
فیکٹ چیک نے بھارت سے ہینڈل ہونے والے ایکس (X) اکاؤنٹ کی جانب سے پھیلائی جانے والی جھوٹی معلومات کی نشاندہی کی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان میں ہر شہری پر 3 لاکھ 33 ہزار روپے قرض ہے۔ فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق یہ دعویٰ حقائق کے منافی، جعلی خبر اور بھارتی پروپیگنڈا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کا کل قرضہ 130 ارب ڈالر ہے جبکہ ملک کی کل آبادی 242 ملین بتائی گئی ہے۔ ان اعداد و شمار کی بنیاد پر اگر فی کس قرض کا حساب لگایا جائے تو ہر پاکستانی پر قرض 538 امریکی ڈالر بنتا ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 1 لاکھ 51 ہزار روپے کے برابر ہے۔ اس طرح سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 3 لاکھ 33 ہزار روپے فی شہری کا دعویٰ مکمل طور پر غلط ثابت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں متعدددہشت گرد حملے ناکام، سیکیورٹی فورسز کا 12 مقامات پر مکمل کنٹرول
فیکٹ چیک کے مطابق اس قسم کے دعوے جان بوجھ کر پھیلائے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے اور پاکستان کے معاشی حالات کے بارے میں غلط تاثر قائم کیا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درست اعداد و شمار کو نظر انداز کر کے من گھڑت حساب پیش کرنا ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے۔
فیکٹ چیک رپورٹ میں بھارت کے حوالے سے بھی سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کا کل قرضہ 2.09 ٹریلین ڈالر ہے جبکہ بھارت کی کل آبادی 1.42 ارب بتائی گئی ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں فی کس قرض 1470 امریکی ڈالر بنتا ہے، جو پاکستان کے فی کس قرضے کے مقابلے میں 2.8 گنا زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: فیک نیوز پھیلانے والوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی،وزیرداخلہ محسن نقوی
فیکٹ چیک نے اپنی رپورٹ میں اس امر پر زور دیا ہے کہ قرضے سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی معلومات کو بغیر تصدیق قبول نہ کیا جائے اور مستند اعداد و شمار پر انحصار کیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے حوالے سے پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ نہ صرف غلط ہے بلکہ دانستہ طور پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی ہے۔




