اٹلی کی پولیس اور کوسٹ گارڈ کے 6اہلکار گزشتہ روز عدالت میں پیش ہوئے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سنہ 2023 میں پیش آنے والے ایک کشتی حادثے میں بروقت اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیںجس کے نتیجے میں پاکستانیوں سمیت کم از کم 94 تارکینِ وطن جاں بحق ہو گئے تھے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوبی اطالوی خطے کالابریا کے ساحل کے قریب پیش آنے والا یہ واقعہ گزشتہ ایک دہائی میں اٹلی کا بدترین حادثہ تھا، جس کے بعد ہر برس شمالی افریقہ سے کشتیوں کے ذریعے آنے والے ہزاروں تارکینِ وطن کے حوالے سے انتہائی دائیں بازو کی وزیراعظم جارجیا میلونی کی سخت پالیسیوں پر شدید تنقید کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین: 5 لاکھ غیر ملکی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ
26 فروری 2023 کو سیاحتی قصبے کٹرو کے ساحل کے قریب چٹانوں سے ٹکرا کر ایک کشتی تباہ ہو گئی، جس میں 35 بچے بھی جاں بحق ہوئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق تمام ملزمان، جن میں اطالوی بحری حدود کی نگرانی کرنے والے مالی جرائم کے ادارے گارڈیا دی فنانزا کے چار افسران اور کوسٹ گارڈ کے دو اہلکار شامل ہیں، قریبی شہر کروٹونے کی عدالت میں مقدمے کی ابتدائی سماعت میں شریک ہوئے۔
ان پر غیرارادی قتل اور کشتی حادثے کے ذمہ داران کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جو اطالوی تعزیراتی قانون کے تحت لاپرواہی یا کوتاہی کے باعث جہاز کے تباہ ہونے پر سزا کا باعث بنتا ہے۔
یہ کشتی ترکیہ سے روانہ ہوئی تھی اور اس میں افغانستان، ایران، پاکستان اور شام سے تعلق رکھنے والے افراد سوار تھے۔ تقریباً 80 افراد زندہ بچ گئے تھے۔
بعدازاں درجنوں لاشیں اور کشتی کا ملبہ ساحل پر آ نکلا۔ جاںبحق ہونے والے افراد کے تابوت قریبی سپورٹس ہال میں رکھے گئے، جہاں بچوں کے لیے سفید تابوت تھے، جبکہ دنیا بھر سے لواحقین اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کرنے پہنچے۔
حکام کے مطابق خدشہ ہے کہ مزید افراد بھی اس حادثے میں ہلاک ہوئے ہوں، جن کی لاشیں کبھی نہیں مل سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے امیگریشن قوانین میں بڑی تبدیلیاں، کتنے لاکھ تارکین متاثر ہوں گے؟
افسران کے خلاف الزامات ایک ایسے امدادی آپریشن سے متعلق ہیں جو کبھی شروع ہی نہ ہو سکا حالانکہ حکام کو گھنٹوں پہلے کشتی کے بارے میں علم تھا۔
یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی فرونٹیکس کے ایک طیارے نے رات 11 بجے (2200 جی ایم ٹی) کے فوراً بعد ساحل سے تقریباً 38 کلومیٹر دور کشتی کو دیکھا اور اطالوی حکام کو آگاہ کیا۔
تاہم بعد میں گارڈیا دی فنانزا کی جانب سے بھیجا گیا ایک جہاز خراب موسم کے باعث واپس لوٹ آیا اور تقریباً چار گھنٹے بعد تارکینِ وطن کی کشتی ساحل کے قریب چٹانوں سے ٹکرا گئی۔




