لاہور ،ماں بیٹی کے مین ہول میں گرنے کاواقعہ فیک قرار، قتل شبہ میں خاوند سمیت3گرفتار

لاہور :داتا دربارکے مرکزی گیٹ کے قریب ماں 9 بیٹی کے مین ہول میں گرنے کا واقعہ حکومت نے فیک قرار دیدیا ہے جبکہ کئی گھنٹے بعد بھی سراغ نہ ملنے پر خاتون کے والد کی جانب سے قتل کے شبہ پر شوہر سمیت3افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق ریسکیو 1122 کو بھاٹی گیٹ نزد داتا دربار مین گیٹ کے قریب مین ہول (گٹر) میں گرنے کی کال موصول ہوئی جس پر ایمرجنسی وہیکلز کو جائے حادثہ پر بھیجاگیا۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق کالر نے بتایا کہ ایک خاتون اپنی بیٹی کے ساتھ مین ہول (گٹر) میں گر گئی ہے، جس کے بعد ٹیموں کو بھیج کر تلاش کیلئے آپریشن شروع کیاگیا۔

یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا:لینڈسلائیڈنگ سے تباہی، 38 افراد ہلاک،27 لاپتہ

ذرائع کے مطابق خاتون اور اس کی بچی سیوریج لائن میں گرے جس کو کئی مقامات سے ڈھانپا بھی گیا تھا، مین ہول میں گرنے والی خاتون کی شناخت سعدیہ کے نام سے ہوئی جس کے ساتھ 9 ماہ کی بچی بھی تھی۔

ذرائع کے مطابق خاتون کے والد نے پولیس سے رابطہ کر کے بیٹی کے قتل کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے شوہر اور سسرالیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیاجبکہ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ جس ہول کا بتایا جا رہا ہے وہاں کسی انسان کا گرنا ممکن نہیں ہے۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش میں شوہر کا بیوی کے ساتھ شدید تنازعات اور سنگین الزامات سامنے آئے جس پر پولیس نے شک کی بنیاد پر شوہر سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا۔

ادھر وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بھاٹی گیٹ پرندہ مارکیٹ کے قریب کھلے مین ہول میں سعدیہ نامی خاتون اور تین ماہ کی بیٹی کے گرنے کی اطلاع کو جعلی قرار دے دیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ لاہور میں ریسکیو 1122 کے جوانوں نے ایک بار پھر اپنی مستعدی کی مثال قائم کی اور بروقت اقدامات کیے جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی اطلاع “فیک” ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد سے شیر خوار بچے کے اغواء کا افسوسناک واقعہ،تفصیلات سامنے آگئیں

انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں فوری متحرک ہوئیں جبکہ انتظامیہ بھی موقع پر پہنچی۔ جان بچانے کے مقدس جذبے کے تحت ریسکیو کی خصوصی ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ریسکیو 1122 پنجاب کا لاہور داتا دربار کے قریب بڑا سرچ آپریشن کیا گیا جبکہ ریسکیو حکام نے بتایا کہ جس سیوریج ہول کی نشاندہی کی گئی اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ناممکن ہے۔

دوسری جانب لاہور کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا، لیکن کافی تگ و دو کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔

Scroll to Top